جب کھیلوں کے میدانوں کی رونقیں سڑکوں کے حالات کے آگے مجبور ہو جائیں، تو کھیل کا سحر ایک لمحے کے لیے دھیما پڑ جاتا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، پیرس سینٹ جرمین (پی ایس جی) اور لیون کے درمیان ہونے والا اہم لیگ ون میچ 24 گھنٹے تاخیر کے بعد اب پیر کے روز کھیلا جائے گا، کیونکہ فرانسیسی دارالحکومت میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
بی بی سی اسپورٹس کی رپورٹ کے مطابق، پارک ڈی پرنسز میں یہ میچ اصل میں اتوار کو پاکستانی وقت کے مطابق شام 7:45 پر ہونا تھا، لیکن اب یہ پیر کے روز رات 8:30 پر کھیلا جائے گا۔ اس تبدیلی کا اعلان پروفیشنل فٹبال لیگ (LFP) نے اپنے ایک بیان میں کیا، جب فرانسیسی پولیس نے طے شدہ تاریخ پر میچ کے انعقاد سے منع کر دیا۔
پس منظر
بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، فرانسیسی حکام اس وقت ملک بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے لیے ایک بڑے سکیورٹی آپریشن کی تیاری کر رہے ہیں۔ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، تعلیمی معیار اور مہنگائی کے خلاف گزشتہ ہفتے کے روز ہونے والے مظاہروں میں لگ بھگ 550,000 افراد نے شرکت کی تھی، جنہیں طلبہ تنظیموں اور یونینز کی حمایت حاصل تھی۔ پیرس سمیت فرانس کے کئی بڑے شہروں میں ہونے والے ان مظاہروں کے دوران تشدد، لوٹ مار اور املاک کو نقصان پہنچانے کے کچھ واقعات بھی سامنے آئے تھے۔
بی بی سی اسپورٹس نے بتایا کہ سکیورٹی کے اس چیلنج کو اس بات نے مزید پیچیدہ کر دیا ہے کہ اتوار کے روز اسٹیڈ ڈی فرانس میں پٹسبرگ اسٹیلرز اور نیو اورلینز سینٹس کے درمیان ایک این ایف ایل (NFL) کا میچ بھی شیڈول ہے، جس کے لیے بڑی تعداد میں پولیس کی نفری درکار ہوگی۔ یہ میچ سین ڈینس میں کھیلا جانا ہے، جو کہ پلس ڈی لا باسٹیل سے تقریباً 10 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں احتجاج شروع ہونے کی توقع ہے۔
ان رکاوٹوں کی وجہ سے فٹبال کا مقامی شیڈول بھی متاثر ہوا ہے، اور بی بی سی اسپورٹس کے مطابق حکام کی درخواست پر ٹولوز اور ٹروا کے درمیان ہونے والا میچ بھی ہفتے سے ہٹا کر اتوار کو منتقل کر دیا گیا ہے۔ فرانسیسی اور یورپی چیمپئن پی ایس جی سات میچوں کے بعد پوائنٹس ٹیبل پر دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ لیون گولز کے فرق کی بنیاد پر 14 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے۔ مزید برآں، بی بی سی اسپورٹس کا کہنا ہے کہ یہ میچ اب لندن میں ہونے والی بیلن ڈی آر تقریب کے ساتھ ہی ہوگا، جہاں پی ایس جی کے زخمی کھلاڑی عثمان ڈیمبیلے اور خویچا کوارٹسخیلی بھی اس اعزاز کے امیدواروں میں شامل ہیں۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
کھیلوں کے شائقین اور بین الاقوامی لیگز پر نظر رکھنے والوں کے لیے اس پیمانے پر شیڈول میں تبدیلیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ سکیورٹی کے مطالبات اور عوامی احتجاج کس طرح کھیلوں کے بڑے شیڈول کو براہ راست متاثر کر سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ صورتحال فرانس تک محدود ہے، لیکن دنیا بھر میں کھیلوں کے مبصرین اس بات پر گہری نظر رکھتے ہیں کہ گھریلو لیگز سکیورٹی کے ان چیلنجز اور انتظامی دباؤ سے کیسے نبرد آزما ہوتی ہیں۔

