اس کیمپس میں جہاں کبھی طلبہ کی ایک بڑی تحریک نے ہلچل مچا دی تھی، فلسطین کے حامی سرگرم کارکن محمود خلیل طویل نظر بندی کے بعد پہلی بار واپس پہنچ گئے۔ الجزیرہ اور اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، 31 سالہ گریجویٹ طالبعلم نے منگل کے روز تقریباً 100 افراد کے مجمع سے خطاب کیا اور اپنی نئی کتاب 'نو لینڈ ٹو سٹینڈ آن: نوٹس فرام ڈیٹینشن' کے حوالے سے گفتگو کی۔
اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے محمود خلیل کا کہنا تھا کہ طلبہ کی اس تحریک نے عوامی سوچ کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور نئی نسل کے رہنماؤں کو اسرائیل سے متعلق اپنے موقف پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ الجزیرہ اور اے ایف پی کے مطابق، انہوں نے کہا کہ امریکی عوام اب فلسطینیوں کو برابر کا انسان سمجھنے لگے ہیں اور اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے ڈاکٹر عبدالسید جیسے ترقی پسند امیدواروں کا ذکر کیا جو امریکی سینیٹ کے لیے میدان میں ہیں۔
محمود خلیل 2024 میں غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے خلاف کولمبیا یونیورسٹی میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ایک نمایاں طالبعلم رہنما کے طور پر ابھرے تھے۔ الجزیرہ اور اے ایف پی کی رپورٹس کے مطابق، انہیں 8 مارچ 2025 کو امیگریشن حکام نے حراست میں لے لیا تھا اور گرین کارڈ کے حامل ہونے کے باوجود انہیں بغیر کسی مجرمانہ الزام کے تین ماہ تک قید میں رکھا گیا۔
اپنی واپسی اور کتاب کی تقریب کو ایک کامیابی قرار دیتے ہوئے محمود خلیل نے یونیورسٹی انتظامیہ پر فلسطینی آوازوں کو دبانے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔ الجزیرہ اور اے ایف پی کے مطابق، انہوں نے تنقید کی کہ انتظامیہ نے مظاہرین کو ہٹانے کے لیے نیویارک پولیس کو طلب کیا اور سختی کا راستہ اپنایا۔ دوسری طرف، الجزیرہ اور اے ایف پی نے بتایا کہ کچھ یہودی تنظیموں نے سوشل میڈیا پر ان کی واپسی کی مخالفت کی۔ امریکی میڈیا میں جاری کردہ ایک بیان میں یونیورسٹی کے ترجمان نے ادارے کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ وہ مختلف آراء کے احترام، سنجیدہ مباحثے اور مکالمے کے لیے پرعزم ہیں، تاہم کسی مہمان کو بولنے کی دعوت دینے کا یہ مطلب نہیں کہ یونیورسٹی اس کے خیالات کی تائید کرتی ہے۔
پس منظر
الجزیرہ اور اے ایف پی کے مطابق، محمود خلیل 2024 میں غزہ کی جنگ کے خلاف امریکی جامعات میں شروع ہونے والی طلبہ تحریک کا ایک معروف چہرہ بن گئے تھے۔ ان مظاہروں کے بعد غیر ملکی طالبعلم کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا، جس کے نتیجے میں 8 مارچ 2025 کو امیگریشن حکام نے انہیں گرفتار کر لیا۔ مستقل امریکی رہائشی ہونے کے باوجود انہیں بغیر کسی باضابطہ الزام کے تین ماہ تک قید میں رکھا گیا۔ حراست میں لیے جانے سے پہلے محمود خلیل نے یہ شکوہ بھی کیا تھا کہ کولمبیا یونیورسٹی نے انہیں ہراسانی سے بچانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے، جبکہ انتظامیہ کا اس وقت یہ موقف تھا کہ مظاہروں کی وجہ سے سیکیورٹی کے خدشات پیدا ہو گئے تھے۔
یہ خبر کیوں اہم ہے؟
پاکستان میں بین الاقوامی حالات پر نظر رکھنے والے قارئین کے لیے یہ صورتحال مغربی اداروں میں تعلیمی آزادی، طلبہ کے احتجاج اور امیگریشن قوانین کے ٹکراؤ کو واضح کرتی ہے۔ الجزیرہ اور اے ایف پی کی فراہم کردہ تفصیلات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے بڑے دارالحکومتوں کی جامعات میں اٹھنے والی تحریکیں کس طرح سیاسی رویوں، انتخابی رجحانات اور بنیادی شہری آزادیوں کے مباحث پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔

