پرتگال کے بڑے شہروں میں احتجاجی خیمے ایک بار پھر اسی شان سے سڑکوں پر لگ گئے ہیں، اور یہ سب پولیس کی جانب سے کی گئی کارروائی کے محض چند گھنٹے بعد ہوا۔ الجزیرہ اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق ہزاروں مظاہرین نے لزبن کے روسیو اسکوائر اور پورٹو کے ڈوم جواؤ اول اسکوائر پر دوبارہ ڈیرے ڈال لیے ہیں تاکہ ہاؤسنگ کے بڑھتے ہوئے بحران اور مہنگائی پر اپنی شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا جا سکے۔
الجزیرہ اور رائٹرز کے مطابق اس احتجاج کی اصل وجہ مرکز پرست حکومت کا وہ متنازع بل ہے جو بے دخلی کے قوانین کو آسان بناتا ہے اور نئے کرایوں پر سے کیپس ختم کرتا ہے، اور یہ بل پارلیمنٹ کے پہلے مرحلے سے گزر چکا ہے۔ مظاہرین کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ دونوں شہروں کے مرکزی چوکوں میں ایک ایک ہزار سے زائد افراد جمع ہوئے۔ اس سے قبل لزبن کے روسیو اسکوائر میں ہفتے کے روز سے تقریباً 200 خیمے لگائے گئے تھے جبکہ پورٹو کا کیمپ لگ بھگ 10 دن سے جاری تھا۔
الجزیرہ اور رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے صبح 6 بجے سے کچھ دیر پہلے ان کیمپوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ایک مربوط آپریشن شروع کیا۔ پورٹو میں تو مظاہرین نے پولیس احکامات پر عمل کرتے ہوئے خود اپنے خیمے ہٹا لیے، لیکن لزبن کے کیمپ کے حوالے سے کارروائی کو کیمپ کی ترجمان کارلا ویلاڈاؤ نے الجزیرہ اور رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے "انتہائی جارحانہ" قرار دیا۔ دوسری طرف پبلک سیکیورٹی پولیس کے سپرنٹنڈنٹ سرجیو سواریز نے میڈیا کو بتایا کہ کارروائی پرسکون، متوازن اور مناسب تھی اور پولیس کی طرف سے کوئی چارج نہیں لگایا گیا۔ الجزیرہ اور رائٹرز نے مزید بتایا کہ اس کارروائی کے دوران حراست میں لیے جانے والے 55 افراد کو بعد میں لزبن میں عدالت میں پیشی کی شرط پر رہا کر دیا گیا۔
احتجاج میں شریک عام شہریوں نے رائٹرز کے ساتھ اپنے ذاتی دکھ درد شیئر کیے۔ 41 سالہ کمیونیکیشن کنسلٹنٹ ڈیبورا میرانڈا نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ اس مظاہرے میں اس نسل کی نمائندگی کرنے کے لیے شامل ہوئی ہیں جو مہنگائی کے بوجھ تلے دب چکی ہے، اور اب پانی سر سے اونچا ہو چکا ہے۔ 19 سالہ تاریخ کے طالب علم جارج پائکساؤ نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے اس صورتحال کو ایک معاشرتی بحران قرار دیا جو ان کی نسل کی باوقار زندگی اور خاندان بسانے کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔
پس منظر
الجزیرہ اور رائٹرز کے مطابق پرتگال اس وقت یورپ کے بدترین ہاؤسنگ اور مہنگائی کے بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔ 2017 کے بعد سے جائیدادوں کی قیمتیں دگنی سے زیادہ ہو چکی ہیں اور نئے معاہدوں کے کرایے بھی تقریباً دوگنا ہو گئے ہیں۔ اس کٹھن صورتحال کا سب سے زیادہ اثر بڑے شہروں میں محسوس کیا جا رہا ہے، جہاں الجزیرہ اور رائٹرز کے مطابق بے لگام سیاحت اور باہر سے آنے والے ڈیجیٹل خانہ بدوشوں کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ پرتگال کے یہ مظاہر فرانس، بیلجیئم اور اٹلی جیسے ممالک میں مہنگائی کے خلاف جاری احتجاج اور ہمسایہ ملک اسپین میں ہونے والے ہاؤسنگ مظاہروں کی یاد تازہ کرتے ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
عالمی معاشی رجحانات پر نظر رکھنے والے قارئین کے لیے، شہری علاقوں میں گھروں کی دستیابی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کا دباؤ تمام ممالک میں ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے، جو دنیا بھر کے شہروں میں رہنے والے عام لوگوں کو ایک چھت کے حصول کے لیے درپیش مشترکہ مشکلات کی عکاسی کرتا ہے۔

