صبح کا اجالا ہونے سے پہلے ہی لزبن کے تاریخی روسیو اسکوائر کا منظر یکسر بدل چکا تھا، جہاں دسیوں پولیس اہلکار شیلڈز، ڈنڈوں اور پولیس کتوں کے ساتھ خیمہ بستی اکھاڑنے کے لیے داخل ہو گئے۔ الجزیرہ اور رائٹرز کے مطابق یہ کارروائی اتوار کی صبح تقریباً 4 بج کر 30 منٹ پر کی گئی، جو ایک روز قبل ہفتے کے روز ہونے والے اس بڑے مظاہرے کے فورا بعد عمل میں آئی جس میں ہزاروں افراد نے متنازع رینٹل بل کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔

الجزیرہ اور رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پولیس کمانڈر یوری روڈریگز نے مظاہرین کو 50 سے زائد خیمے ہٹانے کے لیے تین بار انتباہ جاری کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ یہ خیمے غیر قانونی طور پر لگائے گئے ہیں اور مزاحمت کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔ کیمپ کو بچانے کی کوشش کرنے والے سیکڑوں مظاہرین کو پولیس نے منتشر کر دیا، جبکہ پورٹو کے ڈوم جواؤ اول اسکوائر میں بھی ایک ایسا ہی چھوٹا کیمپ ہٹا دیا گیا۔

یہ علی الصبح کارروائی پچھلے اتوار کی ایسی ہی کارروائیوں کے بعد سامنے آئی ہے، جن میں ہاؤسنگ کمپین گروپ 'کاسا پارا ویور' کے حوالے سے الجزیرہ اور رائٹرز نے بتایا تھا کہ لزبن میں 25 اور پورٹو میں 6 گرفتاریاں عمل میں آئیں اور دونوں شہروں میں مجموعی طور پر 60 افراد زخمی ہوئے۔ اتوار کے اس کریک ڈاؤن سے پہلے قانون ساز پیدرو ڈیلگاڈو الویس نے الجزیرہ اور رائٹرز کو بتایا تھا کہ روسیو اسکوائر پر حالات پرامن تھے اور کسی بھی طرح کے طاقت کے استعمال یا لاٹھی چارج کی کوئی توجیہہ نہیں بنتی تھی۔

پس منظر

الجزیرہ اور رائٹرز کے مطابق یہ مظاہرے پرتگال میں رہائشی مکانات کی کمی، آسمان سے باتیں کرتے کرایوں اور کم اجرتوں کے خلاف شدید غصے کا نتیجہ ہیں۔ یہ ملک اس وقت یورپ کے بدترین ہاؤسنگ افورڈیبلٹی بحران کی لپیٹ میں ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر نوجوان نسل پر پڑ رہا ہے، کیونکہ 2017 کے بعد سے گھروں کی قیمتیں اور نئے کرایے تقریباً دگنے ہو چکے ہیں۔ پرتگال کے مرکزی بینک کے تخمینے کے مطابق ملک بھر میں 300,000 گھروں کی کمی ہے، جو کہ لزبن کے پورے ہاؤسنگ اسٹاک کے برابر ہے۔

مظاہرین اقلیتی دائیں بازو کی درمیانی حکومت سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس تجویز کردہ قانون کو مسترد کرے جس کے تحت بے دخلی کا عمل آسان ہو جائے گا اور نئے کرایوں پر سے کیپس ختم ہو جائیں گے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے حالات مزید خراب ہوں گے اور کرایہ دار مزید غیر محفوظ ہو جائیں گے۔ اسپین میں مہنگائی کے خلاف مظاہروں اور فرانس، جرمنی اور البانیہ میں اقتصادی پالیسیوں کے خلاف مخالفت کا یہ منظر نامہ اس بات کی غالی عکاسی کرتا ہے کہ عام آدمی کو کیا مشکلات درپیش ہیں۔

اس صورتحال کی اہمیت کیوں ہے؟

عالمی اقتصادی دباؤ کا جائزہ لینے والے قارئین کے لیے یہ صورتحال تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری کاری، رہائشی قلت اور زندگی کی بڑھتی ہوئی لاگت سے جڑے ہوئے سنگین سماجی و معاشی چیلنجوں کو اجاگر کرتی ہے۔ یورپ میں نوجوان طبقے کا سستے سر چھپانے کے لیے یہ جدوجہد دنیا بھر کے بڑے شہروں میں درپیش رہائشی مسائل کی عکاس ہے۔