باسکٹ بال کے میدان میں دو ایسی ٹیمیں آمنے سامنے آئیں جن کی اس سیزن میں اب تک کوئی شکست نہیں ہوئی تھی، اور اس سنسنی خیز مقابلے میں پورٹ لینڈ ٹریل بلیپرز نے لاس اینجلس لیکرز کو 129 کے مقابلے میں 136 پوائنٹس سے آؤٹ ڈوئل کر دیا۔ الجزیرہ کے توسط سے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، اس میچ میں شاندار انفرادی کھیل دیکھنے کو ملا، جہاں لیکرز کے لیے لوکا ڈونچیچ نے 41 پوائنٹس بنائے اور 9 اسسٹ دیے، جو اس سے چند روز قبل یوٹاہ جاز کے خلاف 52 پوائنٹس بنانے کے بعد سامنے آیا۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، پورٹ لینڈ کا حملہ متوازن رہا جس میں ڈینی اوودیجا اور جا مورانت نے 23، 23 پوائنٹس اسکور کیے، جبکہ جرو ہالیڈے نے بینچ سے آ کر 22 اور ڈیمین لِلارڈ نے 21 پوائنٹس کا حصہ ڈالا۔ اس کے علاوہ رابرٹ ولیمز سوم نے ٹریل بلیپرز کے لیے 14 پوائنٹس اور 10 ریباؤنڈز حاصل کیے۔ پورٹ لینڈ نے مجموعی طور پر فیلڈ سے 59 فیصد شالنگ کی اور 3 پوائنٹ آرک کے پیچھے سے 36 میں سے 18 کوششیں کامیاب رہیں۔
دوسری جانب لیکرز کے لیے آسٹن ریویز نے 26 پوائنٹس اور 7 اسسٹ دیے، سینڈرو ماموکلاشویلی نے 17 پوائنٹس اسکور کیے، واکر کِسلر نے 13 اور زیویئر ولیمز نے 11 پوائنٹس بنائے۔ رائٹرز کے توسط سے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، فیلڈ سے 56.2 فیصد شاٹنگ اور 3 پوائنٹ کے 43 میں سے 17 شاٹس کامیاب ہونے کے باوجود لاس اینجلس کو اپنے 4 میچوں میں پہلی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
پس منظر
الجزیرہ اور رائٹرز کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق، یہ مقابلہ منگل کی رات کو ہوا کیونکہ دونوں ٹیمیں اپنے ابتدائی سیزن کی فتح کا سلسلہ برقرار رکھنا چاہتی تھیں۔ میچ کے دوران کئی بار برتری تبدیل ہوئی، بشمول ایک ایسے کڑے مقابلے کے جہاں چوتھے کوارٹر کے آخر میں پورٹ لینڈ کو 124 کے مقابلے میں 128 پوائنٹس کی برتری حاصل تھی، اور پھر مورانت کے اہم باسکٹ اور میچ ختم ہونے سے 43.1 سیکنڈ قبل لِلارڈ کے فیصلہ کن 3 پوائنٹ شاٹ نے 129 کے مقابلے میں 136 کی فتح پر مہر ثبت کر دی۔ لیکرز نے اس سے قبل برتری حاصل کی تھی، بشمول ہاف ٹائم پر 68 کے مقابلے میں 73 پوائنٹس کی برتری جو بڑی حد تک ڈونچیچ کے پہلے ہاف کے 24 پوائنٹس کی بدولت تھی، اور آخری کوارٹر میں داخل ہوتے وقت 102 کے مقابلے میں 103 پوائنٹس کی برتری بھی شامل تھی جس کے بعد پورٹ لینڈ نے میچ اپنے نام کر لیا۔
اس کی اہمیت
بین الاقوامی باسکٹ بال مقابلوں کے شوقین شائقین کے لیے، سرفہرست ٹیموں کے درمیان یہ ہائی پروفائل مقابلے این بی اے کے ابتدائی سیزن کی مسابقتی نوعیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ میچ پاکستان سے بہت دور کھیلا گیا، لیکن بڑے عالمی مقابلوں کی کھیلوں کی کوریج دنیا بھر کے شائقین کو شاندار ایتھلیٹک پرفارمنس اور ٹیموں کی پوزیشنز سے باخبر رکھتی ہے۔

