پاپائے روم کی تاریخ میں ایک بالکل انوکھا اور غیر معمولی واقعہ پیش آیا ہے جہاں پوپ لیو چہارم نے امریکی عام انتخابات میں ڈاک کے ذریعے اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ویٹی کن نے جمعہ کے روز تصدیق کی کہ پوپ نے آنے والے 3 نومبر کے وسطی انتخابات سے پہلے اپنے آبائی شہر شکاگو میں اپنا بیلٹ جمع کرا دیا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق، ویٹی کن کے پریس آفس کا کہنا ہے کہ پوپ، جن کا سابقہ نام رابرٹ پریوسٹ ہے، جب بھی اہل رہے انہوں نے بطور امریکی شہری اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا ہے۔ ویٹی کن نے یہ بھی واضح کیا کہ پوپ اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ جمہوری عمل میں حصہ لینا شہریوں کا حق بھی ہے اور فرض بھی۔

امریکہ کی کیتھولک بشپس کانفرنس کے پبلک افیئرز کے ڈائریکٹر چئییکو نوگوچی نے الجزیرہ کو بتایا کہ پوپ کا یہ اقدام ہر شہری کے لیے اپنی شہری ذمہ داری پوری کرنے کی ایک عمدہ مثال ہے۔ کانفرنس نے کیتھولک شہریوں پر زور دیا کہ وہ سیاست سے اوپر اپنے ایمان کو رکھیں اور انسانی وقار اور مشترکہ فلاح کو ترجیح دیں۔

پس منظر

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، پوپ لیو امریکہ، پیرو — جہاں انہوں نے بطور پادری اور بشپ دو دہائیوں سے زائد عرصہ گزارا — اور ویٹی کن کے شہری ہیں، جہاں وہ سربراہ مملکت کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ امریکی وفاقی قانون کے مطابق بیرون ملک مقیم شہری غیر حاضری کے بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈال سکتے ہیں، اور کسی غیر ملکی حکومت کے لیے کام کرنے سے امریکی شہری خود بخود ختم نہیں ہوتی، اگرچہ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق وہ غیر ملکی سربراہان مملکت یا حکومت کے طور پر خدمات انجام دینے والے افراد کی حیثیت کا جائزہ لے سکتا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق، الینوائے جہاں شکاگو واقع ہے، وہاں ڈیموکریٹک اکثریتی ریاست میں ووٹرز سینیٹر ڈک ڈربن کے جانشین کا انتخاب کر رہے ہیں اور گورنر جے بی پرٹزکر کے دوبارہ انتخاب کے معاملے پر فیصلہ کر رہے ہیں۔ الینوائے اسٹیٹ بورڈ آف الیکشنز کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ 2000 کے بعد سے پریوسٹ نے 5 پرائمری انتخابات میں ووٹ ڈالا ہے، جن میں دو بار ڈیموکریٹک اور تین بار ریپبلکن بیلٹ کی درخواست دی۔ الجزیرہ نے واضح کیا کہ ریکارڈ سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ انہوں نے کن امیدواروں کی حمایت کی، کیونکہ الینوائے کے ووٹرز کو پرائمری بیلٹ حاصل کرنے کے لیے پارٹی کی ترجیح کا اعلان کرنا لازمی ہوتا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق، پوپ لیو نے 3 اکتوبر کو اپنے دائیں پھیپھڑے سے کینسر کا ٹیومر نکالنے کی سرجری سے صرف 10 دن قبل اپنے ڈاک کے ذریعے ووٹ کی درخواست کی تھی۔ انہیں 17 اکتوبر کو اسپتال سے فارغ کیا گیا تھا اور وہ آہستہ آہستہ ویٹی کن میں اپنے امور کی طرف واپس آ رہے ہیں۔

اہمیت کیوں رکھتی ہے

عام قارئین کے لیے یہ واقعہ روحانی قیادت اور شہری فرائض کے ملاپ کو اجاگر کرتا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کس طرح اپنی قومی شہریت اور آئینی حقوق کو نبھاتے ہیں۔ یہ پیش رفت دوہری شہریت اور بیرون ملک سے جمہوری انتخابات میں شرکت کے حوالے سے ایک منفرد زاویہ پیش کرتی ہے۔