امریکہ میں 6 دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد ہونے والی پہلی فوجی سزائے موت کو عوام کے لیے براہ راست نشر کیا جائے گا، جو کہ جدید عدلیہ کی تاریخ میں ایک منفرد قدم ہے۔ بی بی سی نیوز کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بتایا ہے کہ سابق امریکی آرمی میجر نضال حسن کی سزائے موت کو عوامی سطح پر دکھایا جائے گا تاکہ لوگ ایسے اقدامات کے سنگین نتائج کا خود مشاہدہ کر سکیں۔
بی بی سی نیوز کے مطابق محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس سزائے موت کی لائیو اسٹریمنگ کی جائے گی۔ ایک قدامت پسند ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ نضال حسن کو فوجیوں کے فائرنگ اسکواڈ کے سامنے لایا جائے گا، اور انہوں نے اسے مناسب قرار دیا۔ بی بی سی نیوز نے رپورٹ کیا کہ نیٹ ورک نے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ آیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس عوامی نشریات کی حمایت کرتے ہیں یا نہیں۔ پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے پیر کے روز بی بی سی نیوز کو بتایا کہ وزیر دفاع نے اس کی سفارش کی تھی اور صدر ٹرمپ نے اس کی منظوری دے دی ہے۔
بی بی سی نیوز کے مطابق امریکی فوج کے سیکرٹری نے اعلان کیا ہے کہ یہ سزائے موت ٹیکساس کے فورٹ ہڈ میں 3 دسمبر کو دی جائے گی۔
پس منظر
بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ آنے والا واقعہ دوسری جنگ عظیم کے بعد فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جانے والی پہلی فوجی سزائے موت ہوگی، اور مجموعی طور پر 60 سال سے زائد عرصے میں پہلی بار کسی فوجی کو سزائے موت دی جائے گی۔ آخری فوجی سزائے موت 1961 میں دی گئی تھی جب ایک امریکی آرمی پرائیویٹ کو پھندے پر لٹکایا گیا تھا، جس کی منظوری اس وقت کے صدر ڈائائٹ ڈی آئزن ہاور نے دی تھی۔ بی بی سی نیوز کے مطابق فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے آخری فوجی سزائے موت جنوری 1945 میں دی گئی تھی، جب دوسری جنگ عظیم کے دوران ایک امریکی فوجی صحرا نورد کو گولی ماری گئی تھی۔
بی بی سی نیوز نے واضح کیا کہ فوجی قانون کے تحت کسی بھی فوجی سزائے موت کے لیے امریکی صدر کی منظوری، اپیل کے عمل کا جائزہ اور اس کی قانونی حیثیت پر آخری فیصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔
بی بی سی نیوز کے مطابق نضال حسن نے عدالت میں اعتراف کیا تھا کہ وہ وہی شخص ہے جس نے 2009 میں فورٹ ہڈ کے مقام پر 13 غیر مسلح امریکی فوجیوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا تھا، اور انہوں نے کسی بھی غلطی پر معافی بھی مانگی تھی۔ انہوں نے 2013 کے کورٹ مارشل کے دوران مؤقف اپنایا تھا کہ وہ افغانستان میں مسلمانوں اور طالبان کا دفاع کر رہے تھے۔ بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق 5 نومبر 2009 کو ہونے والا یہ حملہ ایک ایسے ہجوم والے طبی مرکز میں پیش آیا جہاں بیرون ملک تعیناتی کے لیے جانے والے فوجی طبی معائنے اور ویکسین کے منتظر تھے، جو کسی بھی امریکی فوجی اڈے پر ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا غیر جنگی حملہ تھا۔
بی بی سی نیوز کے مطابق اگرچہ صدر ٹرمپ نے کبھی عوامی سطح پر سزائے موت کو براہ راست دکھانے کی وکالت نہیں کی، لیکن ان کا سزائے موت کی حمایت کا پرانا ریکارڈ رہا ہے، جس میں 1989 میں سینٹرل پارک فائیو کے ملزمان کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کرنے والے بڑے اخباری اشتہارات بھی شامل ہیں۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
پاکستانی ناظرین سمیت بین الاقوامی مبصرین کے لیے سزائے موت، فوجی ٹریبونلز اور سرکاری سطح پر دی جانے والی سزائے موت کی شفافیت سے جڑے یہ معاملات فوجی اداروں کے اندر قانونی معیارات، انسانی حقوق اور انصاف کی فراہمی کے بارے میں عالمی سطح پر جاری بحث کو مزید تقویت دیتے ہیں۔

