اسرائیل میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل وہاں کے فلسطینی شہری ایک انتہائی کٹھن اور پیچیدہ فیصلے سے دوچار ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ملک کی کل آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ بننے والے ان شہریوں کو ایسے سیاسی نظام میں حصہ لینا ہے جسے وہ اپنے خلاف صف آرا سمجھتے ہیں، اور وہ اصول اور حکمت عملی کے درمیان توازن تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے علاقے بیت حنینا سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ لیلیٰ عاتمنہ 27 اکتوبر کو پہلی بار اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے گھر میں خاندانی میز پر انتخابات کے حوالے سے اکثر بحث رہتی ہے، جہاں ان کے والد عرب قیادت والی انتخابی فہرست کے حق میں ووٹ ڈالنے کی حمایت کرتے ہیں جبکہ ان کی والدہ اس مایوسی کے تحت ہمیشہ بائیکاٹ کرتی ہیں کہ اس عمل میں حصہ لینا مساوی حقوق کے محض ایک دھوکے کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لیلیٰ عاتمنہ ووٹ ڈالنے کو مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ پٹی کے ان لاکھوں فلسطینیوں کے لیے ایک ذمہ داری سمجھتی ہیں جنہیں اسرائیلی حکومت میں کوئی بات کہنے کا حق حاصل نہیں۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ انہیں عبرانی زبان میں انتخابی کوریج سمجھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے وہ خود کو الگ تھلگ محسوس کرتی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ سیاسی جماعتیں پہلی بار ووٹ دینے والے فلسطینی نوجوانوں کے مسائل پر توجہ نہیں دیتی ہیں۔

پس منظر

الجزیرہ کے مطابق رائے عامہ کے جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ نہ تو بنجمن نیتن یاہو کی قیادت والا انتہائی دائیں بازو کا اتحاد اور نہ ہی خود ساختہ صہیونی حزب اختلاف کا اتحاد اتنی نشستیں حاصل کر سکے گا کہ وہ عرب جماعتوں (رعم اور جوائنٹ لسٹ) کی شمولیت کے بغیر تنہا حکومت بنا سکے۔ اگر کوئی بھی اتحاد 120 رکنی کنیست میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو نئے انتخابات کا اعلان کیا جائے گا جس کی وجہ سے موجودہ انتہائی دائیں بازو کی حکومت عبوری طور پر اقتدار میں برقرار رہے گی۔

اہمیت کیوں رکھتی ہے

بین الاقوامی سیاسی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والے قارئین کے لیے یہ صورتحال ان پسماندہ طبقات کو درپیش مخمصے کو واضح کرتی ہے جو ایسے بڑے انتخابی عمل میں حصہ لیتے ہیں جہاں ان کی نمائندگی متنازع ہوتی ہے۔ انتخابات کا نتیجہ براہ راست خطے کے سیاسی مستقبل پر اثر انداز ہوتا ہے، جہاں اسرائیلی حکومت کے اقدامات وسیع تر جغرافیائی سیاسی حقائق کی تشکیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

آگے کیا ہوگا

الجزیرہ نے بتایا کہ عام انتخابات 27 اکتوبر کو شیڈول ہیں، جس کے بعد اکثریتی اتحاد کی تشکیل یا نئے انتخابات کا انعقاد اسرائیل کی اگلی حکومت کی تشکیل کا فیصلہ کرے گا۔