جب خطے کے امن کو خطرات لاحق ہوں تو اسلام آباد اور ریاض کے درمیان دوستی کی لکیریں مزید واضح ہو جاتی ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کا دفاع "پوری قوت" سے کرے گا، اور مملکت کی حفاظت اتنی ہی مقدم ہے جتنی خود اپنے وطن کی سلامتی۔

جیو نیوز کے پروگرام "آج شاہزب خانزادہ کے ساتھ" میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے خطے کی تازہ ترین صورتحال، حوثیوں کے تنازع اور پاکستان، سعودی عرب، ایران اور ترکی کے درمیان سفارتی کوششوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاض کے ساتھ تعلقات محض کاغذی معاہدوں تک محدود نہیں ہیں۔

اہم حقائق

  • جیو نیوز کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا دفاع پاکستان کے اپنے دفاع جتنا ہی اہم ہے۔
  • جیو نیوز نے رپورٹ کیا کہ آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے حال ہی میں تہران میں ایران، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقات کی، جہاں چاروں ممالک نے خطے میں تعاون بڑھانے کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
  • خواجہ آصف نے جیو نیوز کو بتایا کہ تین ممالک نے ایک معاہدے کے تحت تحریری عزم کر رکھا ہے کہ کسی بھی خطرے کی صورت میں مشترکہ ردعمل دیا جائے گا۔
  • جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق خواجہ آصف نے اس بات کا ذکر کیا کہ ریاض ایئرپورٹ اور حرمین الشریفین کو نشانہ بنانے کی کوششیں بارہا کی گئیں، جسے انہوں نے انتہائی افسوسناک قرار دیا۔

پس منظر

جیو نیوز کے مطابق یہ سفارتی پیشرفت تہران میں ہونے والے ان مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے جن میں پاکستان کے آرمی چیف، سعودی وزیر دفاع اور ترکی کے انٹیلی جنس سربراہ نے شرکت کی۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ تہران میں سعودی اور ترک حکام کی موجودگی اس سفارتی رابطے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، جو آرمی چیف کی کوششوں سے ممکن ہوا۔ وزیر دفاع نے اگرچہ نتائج کے حوالے سے کچھ محتاط رویہ رکھا، تاہم انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایران اور دیگر ممالک کی کوششوں سے خطے میں امن قائم ہو سکتا ہے۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

یہ پیشرفت خطے کے بڑےمملکتوں کے ساتھ پاکستان کے فعال سفارتی اور دفاعی کردار کو ظاہر کرتی ہے۔ عام شہریوں کے لیے ان اعلیٰ سطحی مذاکرات اور باہمی دفاعی عزم کا مطلب یہ ہے کہ خطے کی قیادت کشیدگی کم کرنے، سلامتی کے خطرات سے نمٹنے اور ایسے تنازعات کو روکنے کے لیے کوشاں ہے جو اہم مقامات اور عالمی امن پر اثرانداز ہوتے ہیں۔