جزیرہ نما ملک مالدیپ کے صدر کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو 11 برس کا طویل وقفہ اور 6 دہائیاں مکمل ہو چکی ہیں۔ وزیراعظم ہاؤس آمد پر مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کا پرتپاک استقبال کیا گیا جہاں وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا، جیسا کہ جیو نیوز نے رپورٹ کیا ہے۔

جیو نیوز کے مطابق، مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ دونوں برادر ملکوں نے باہمی تجارت کا حجم موجودہ 13 ملین ڈالر سے بڑھا کر اگلے دو سال میں 200 ملین ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس معاشی ہدف کے حصول کے لیے پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں مالدیپ کو تکنیکی معاونت فراہم کرے گا اور تجارت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔

اس دورے کے دوران دونوں جانب سے مختلف شعبوں میں تعاون کے کئی یادداشتِ مفاہمت (ایم او یوز) پر دستخط کیے گئے۔ جیو نیوز کے مطابق، ان معاہدوں کا تعلق دفاع، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، صحت، تعلیم، سماجی تحفظ، زراعت، ماہی گیری، سیاحت اور سمندری سیکیورٹی سے ہے۔

مختلف اداروں کے درمیان باضابطہ معاہدے بھی طے پائے۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، مالدیپ پولیس سروس کے نیشنل کالج آف پالیسی اینڈ لاء انفورسمنٹ اور پاکستان کی نیشنل پولیس اکیڈمی کے درمیان معاہدہ طے پایا ہے۔ اس کے علاوہ سول سروس کمیشن آف مالدیپ اور پاکستان کے فیڈرل پبلک سروس کمیشن اور سول سروس اکیڈمی کے مابین بھی معاہدے ہوئے ہیں۔ مالدیپ اسٹیٹ ٹریڈنگ آرگنائزیشن اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے بھی زرعی اجناس، خوراک اور دیگر مصنوعات کی تجارت کے سلسلے میں ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔

پس منظر

جیو نیوز کے مطابق، یہ دورہ اس لحاظ سے تاریخی اہمیت کا حامل ہے کہ 11 سال کے طویل عرصے کے بعد کسی مالدیپ کے صدر کا یہ پہلا سرکاری دورہ پاکستان ہے۔ یہ سفارتی پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے پر سامنے آئی ہے۔

اہمیت کیوں رکھتی ہے

پاکستان کے عام شہریوں اور کاروباری حلقوں کے لیے ان معاہدوں سے تجارت، تعلیم اور سرکاری اداروں میں تعاون کے نئے سرکاری دروازے کھل گئے ہیں۔ تجارت کو 200 ملین ڈالر تک لے جانے کا ہدف، زراعت، خوراک، صحت، آئی ٹی اور پیشہ ورانہ تربیت میں باضابطہ تعاون دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور تکنیکی تعلقات کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔