بی بی سی نیوز کے مطابق فرانس کے دارالحکومت پیرس کے نواحی علاقے ٹراپس میں جمعہ کی صبح پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے میں کم از کم ایک شخص جاں بحق اور 4 افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس اس واقعے کو دہشت گردی کی کارروائی کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ فرانسیسی وزیراعظم سبسٹین لیکورنو نے اس صورتحال کو انتہائی سنجیدہ قرار دیا اور بتایا کہ مشتبہ حملہ آور کو گرفتار کر کے پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق قومی انسداد دہشت گردی کے پراسیکیوٹر آفس (PNAT) نے اس معاملے کی تحقیقات اپنے ہاتھ میں لے لی ہیں، جن کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گرد تنظیم سے جڑے قتل کا معاملہ معلوم ہوتا ہے۔ فرانسیسی میڈیا کے حوالے سے بی بی سی نے بتایا کہ زخمیوں کی تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے اور متاثرین میں ایک 12 سالہ بچہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔
پس منظر
بی بی سی نیوز کے مطابق ٹراپس کے میئر علی ربیع نے بتایا کہ جمعہ کی صبح ایک شخص نے علاقے میں چلتی گاڑی سے لوگوں پر فائرنگ کی۔ فرانسیسی وزیر داخلہ لورین نونیز نے بتایا کہ حملہ آور بظاہر خودکار ہتھیار استعمال کر رہا تھا۔ بی بی سی کے مطابق پراسیکیوٹر آفس کی تحقیقات میں زمرہ اے کے ہتھیار کی غیر قانونی موجودگی اور دہشت گرد گروہ کے ساتھ مل کر افراد کے خلاف جرائم کی سازش تیار کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔
یہ واقعہ کیوں اہم ہے
عالمی دارالحکومتوں میں پیش آنے والے پرتشدد اور دہشت گردی کے ایسے واقعات کو سلامتی کے حوالے سے پوری دنیا میں گہری نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ عام شہریوں اور مبصرین کے لیے ایسے سانحات اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ عوامی تحفظ، حفاظتی تدابیر اور انسداد دہشت گردی کے قوانین پر عمل درآمد کے سلسلے میں عالمی سطح پر تشویش بدستور برقرار ہے۔

