انصاف کے حصول کا سفر بعض اوقات کتنا طویل اور مالی و اخلاقی لحاظ سے کتنا بھاری ہوتا ہے، اس کا اندازہ نیویارک کے اس نئے فیصلے سے لگایا جا سکتا ہے جہاں چرچ کے عملے کی طرف سے زیادتی کا نشانہ بننے والے افراد کے ساتھ ایک بڑا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ الجزیرہ، اے ایف پی، اے پی اور رروئٹرزٹرز کی رپورٹس کے مطابق، نیویارک کے آرچ ڈائوسیس نے پادریوں کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا شکار بننے والے تقریباً 1300 افراد کے قانونی دعوے نمٹانے کے لیے 80 کروڑ ڈالر سے زائد رقم ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
الجزیرہ، اے ایف پی، اے پی اور روئٹرز کے مطابق، نیویارک کے بشپ رونالڈ ہکس نے بتایا ہے کہ فریقین اور ان کے وکلا کے درمیان طے پانے والے اس سمجھوتے پر باضابطہ دستخط 6 نومبر کو کیے جائیں گے۔ نیویارک ٹائمز کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، اس سمجھوتے کے تحت متاثرہ ہر ایک فرد کو کم از کم 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر ملیں گے، جبکہ زیادتی کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے اس رقم میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق، کیلیفورنیا کے لاس اینجلس آرچ ڈائوسیس کی جانب سے 2024 میں طے کیے گئے 88 کروڑ ڈالر کے معاہدے کے بعد یہ اپنی نوعیت کا دوسرا بڑا مالی سمجھوتہ ہے۔
نیویارک کی ریاست میں کیتھولک چرچ کے خلاف ایک ہزار سے زائد کیس دائر کرنے والے افراد کے وکیل جیف اینڈرسن نے اس پیش رفت کو انصاف کی راہ میں ایک طاقتور لمحہ قرار دیا ہے۔ الجزیرہ، اے ایف پی، اے پی اور روئٹرز کی کور کردہ بیان بازی کے مطابق، انہوں نے اس حساب کتاب اور جوابدہی کے حصول کے لیے متاثرین کی ہمت اور عزم کو سراہا۔
پس منظر
الجزیرہ، اے ایف پی، اے پی اور روئٹرز کے مطابق، یہ معاہدہ متاثرین کے وکلا اور چرچ کے مابین برسوں کی طویل بات چیت کے بعد طے پایا ہے۔ امریکہ میں کیتھولک چرچ کو 2000 کی دہائی کے اوائل سے جنسی زیادتی کے اسکینڈلز کی وجہ سے وسیع پیمانے پر جانچ پڑتال اور قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس دور کی میڈیا تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ کیتھولک پادریوں نے کئی دہائیوں کے دوران ہزاروں بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا، جبکہ چرچ کے رہنماؤں نے ان واقعات پر پردہ ڈالنے کے لیے ملزم پادریوں کو سول حکام کے حوالے کرنے کے بجائے ان کے تبادلے کیے۔
اس صورتحال کے نتیجے میں امریکی ڈائوسیسز کو کروڑوں ڈالر کے ہرجانے کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد عدالتوں سے باہر مقدمات کو حل کرنے کے لیے معاوضے کے پروگرام بنائے گئے۔ اس سے پہلے سان فرانسسکو کے آرچ ڈائوسیس نے بھی جون میں جنسی زیادتی کے تقریباً 530 متاثرین کو 39 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ادا کرنے کے سمجھوتے کا اعلان کیا تھا۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
بین الاقوامی مبصرین کے لیے ایسے بڑے پیمانے کے ادارہ جاتی احتساب کے مقدمات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جب بڑے مذہبی اور عوامی ادارے تاریخی شکایات اور نظام کی خرابیوں کا سامنا کرتے ہیں، تو انہیں کن پیچیدگیوں اور طویل مدتی قانونی نتائج سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایسے واقعات دنیا بھر میں ادارہ جاتی شفافیت، متاثرین کے معاوضے اور پدانشکرم (ہیرارکی) پر مبنی اداروں میں زیادتی کے معاملات سے نمٹنے کے لیے درکار قانونی فریم ورک پر بحث کو اجاگر کرتے ہیں۔
