جب کوئی حکمران یا سرکاری عہدیدار بیرون ملک سے تحفہ وصول کرتا ہے، تو اب غیر ملکی ہاتھوں سے سرکاری خزانے تک اس تحفے کا سفر یکسر بدل چکا ہے۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کے نئے قوانین باضابطہ طور پر نافذ کر دیے ہیں، جن کے تحت ماضی میں 300 ڈالر تک مالیت کے تحائف مارکیٹ قیمت ادا کرکے اپنے پاس رکھنے کی جو سہولت تھی، اسے اب ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا ہے۔
جیو نیوز کے لیے انصار عباسی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جہاں پرانے ضابطے کے تحت کم مالیت کی کچھ اشیاء قیمت چکانے کے بعد رکھی جا سکتی تھیں، اب توشہ خانہ (مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن) رولز 2026 کے تحت ایسے تمام تحائف براہ راست سرکاری خزانے میں جمع کرانا لازمی ہوں گے جنہیں سفارتی یا ثقافتی بنیادوں پر واپس کرنا ممکن نہ ہو۔
اہم حقائق
- تحفے اپنے پاس رکھنے کا راستہ بند: جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق اب سرکاری عہدیداروں کو مارکیٹ قیمت ادا کرکے 300 ڈالر تک کے تحائف رکھنے کا کوئی حق حاصل نہیں رہا۔
- کمیٹھی کی استثنائی اختیارات: جیو نیوز کے مطابق کابینہ سیکرٹری کی سربراہی میں کام کرنے والی ایک کمیٹی، جس میں خزانہ، دفتر خارجہ، قانون اور ثقافت ڈویژن کے اعلیٰ نمائندے شامل ہیں، یہ فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتی ہے کہ کون سے قیمتی اور سفارتی طور پر حساس تحائف کو کھلی نیلامی سے مستثنیٰ قرار دینا ہے۔
- قیمت کے تعین کا شفاف طریقہ کار: جیو نیوز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف رویین اگر اور پرائیویٹ سیکلٹر کا ایک تخمینہ کار تحفے کی مارکیٹ ویلیو کا تخمینہ لگاتے ہیں، جبکہ دونوں کی قیمتوں میں 25 فیصد سے زیادہ فرق ہونے کی صورت میں تیسرے تخمینہ کار کی خدمات لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
- نیلامی میں شفافیت: جیو نیوز کا کہنا ہے کہ نیلامی کا عمل بالکل کھلا ہوگا، جس میں سرکاری عہدیداروں اور ان کے اہل خانہ کے حصہ لینے پر پابندی ہوگی۔ اس عمل کی براہ راست میڈیا کوریج کی جائے گی اور ماہانہ بنیادوں پر اسے آن لائن پورٹل پر درج کیا جائے گا۔
- فنڈز کا استعمال: جیو نیوز کے مطابق نیلامی سے حاصل ہونے والی تمام رقم کو ایک الگ اکاؤنٹ میں جمع کیا جائے گا جو ملک کے پسماندہ ترین علاقوں میں بچیوں کی پرائمری تعلیم کے لیے استعمال ہوگا۔
پس منظر
جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے سرکاری ذرائع نے بتایا کہ 2023 کے توشہ خانہ کے طریقہ کار اور 2026 کے نئے قوانین کا موازنہ کیا جائے تو تحائف کے انتظام میں سختی واضح طور پر نظر آتی ہے۔ سنہ 2023 کے طریقہ کار کے تحت 300 ڈالر سے زائد مالیت کے تحائف پہلے ہی سرکاری ملکیت بن جاتے تھے اور تاریخی یا نوادرات کی حیثیت رکھنے والی اشیاء کو ذاتی تحویل میں رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ 2026 کا نیا فریم ورک اسی پر عمارت بناتا ہے اور اس میں تشخیص کے سخت اصول متعارف کرائے گئے ہیں جن کے تحت 3 ماہ سے پرانی قیمتوں کو تسلیم نہیں کیا جائے گا اور ریزرو قیمت مارکیٹ کی تخمینہ شدہ قیمت سے کم نہیں رکھی جائے گی۔ البتہ عوامی پورٹل پر تحفہ دینے والی شخصیات اور ممالک کے نام مخفی رکھے جائیں گے۔
یہ کیوں اہم ہے
عام شہریوں کے لیے یہ ضابطہ جاتی تبدیلیاں اس بات کا تعین کرتی ہیں کہ سرکاری تحائف—جنہیں اکثر سفارتی تعلقات کی علامت اور قومی اثاثہ سمجھا جاتا ہے—کیسے سنبھالے جاتے ہیں اور سرکاری ملازمین ان کا کس طرح حساب کتاب دیتے ہیں۔ نیلامی کی رقم کو پسماندہ علاقوں کی بچیوں کی تعلیم کے لیے مختص کرنے، تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے اور نیلامی کی براہ راست میڈیا کوریج کو یقینی بنانے سے اس پورے عمل میں ایک باقاعدہ نگرانی کا نظام قائم ہو گیا ہے جو ماضی میں اکثر بند کمروں کے فیصلوں تک محدود رہا تھا۔

