پشاور کے سیاسی اور انتظامی حلقوں میں اس وقت ہلچل مچی ہوئی ہے جب قومی احتساب بیورو (نیب) نے مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے دور کے ترقیاتی منصوبوں اور سابق وزراء کے اثاثوں کی فائلیں کھول لی ہیں۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، بیورو نے سابق وزیر اعلیٰ اور دو سابق وزراء کے اثاثوں کا ریکارڈ حاصل کر لیا ہے جبکہ دی نیوز کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے دور میں ملنے والے ٹھیکوں اور ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات بھی جمع کی جا رہی ہیں۔
اہم حقائق
- جیو نیوز اور دی نیوز کے مطابق نیب ترقیاتی سکیموں پر ہونے والے اخراجات، ٹھیکوں کے اجرا اور تعمیراتی کاموں کے ریکارڈ کا جائزہ لے رہا ہے۔
- جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق کمیونیکیشن اینڈ ورکس (سی اینڈ ڈبلیو) ڈیپارٹمنٹ سے کہا گیا ہے کہ وہ سہیل آفریدی کے دور میں بننے والی سڑکوں، جاری اور مکمل منصوبوں، دیے گئے ٹھیکوں اور ان کے ٹھیکیداروں کی تفصیلات فراہم کرے۔
- جیو نیوز کے مطابق متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ترقیاتی سکیموں کی منظوری، فنڈز کی تقسیم اور تعمیراتی سرگرمیوں کا ریکارڈ جمع کروائیں۔
- نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق سرکاری عہدیداروں کی جائیدادوں اور اثاثوں کی معلومات کے حصول کے لیے ریونیو ڈیپارٹمنٹ، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے رجسٹرار، پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) اور دیگر متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔
- ذرائع کے مطابق نیب پی ٹی آئی حکومت کے دور میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں اور بدعنوانی کے الزامات کی بھی جانچ پڑتال کر رہا ہے۔
پس منظر
یہ تحقیقات خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے دور میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد شروع کی گئی ہیں۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ بیورو متعلقہ سیاسی رہنماؤں کو پوچھ گچھ کے لیے بلانے کا فیصلہ کرنے سے پہلے جائیداد اور اثاثوں کے ریکارڈ کا جائزہ لے گا۔ ایک سرکاری عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ اس جاری جانچ پڑتال سے کسی بھی فرد کی مجرمانہ کارروائی ثابت نہیں ہوتی اور نہ ہی ان الزامات کی تصدیق کے لیے کوئی حتمی نتائج جاری کیے گئے ہیں۔
اس کی اہمیت کیا ہے
پاکستان بھر کے عام شہریوں کے لیے قومی احتساب اداروں کی یہ کارروائیاں اس بات کو اجاگر کرتی ہیں کہ عوامی عہدوں، بنیادی ڈھانچے کے اخراجات اور قانونی نگرانی کا آپس میں کیا تعلق ہے۔ سڑکوں کی تعمیر، ترقیاتی منصوبوں اور وسائل کی تقسیم کی جانچ اس امر کا احاطہ کرتی ہے کہ مختلف ادوار میں عوامی فنڈز کا استعمال اور آڈٹ کس طرح کیا جاتا ہے۔
آگے کیا ہوگا
جیو نیوز کی جانب سے نقل کردہ نیب ذرائع کے مطابق، بیورو متعلقہ دستاویزات اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد اپنی آئندہ کی حکمت عملی کا فیصلہ کرے گا۔

