ٹیکساس کے ٹریک پر فارمولا ون گاڑیوں کی گرج اور تیز رفتاری کے ساتھ امریکی گرینڈ پری کے پہلے پریکٹس سیشن کا آغاز ہو گیا۔ بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، فیراری کے ڈرائیور چارلس لی کلرک نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریڈ بل کے روایتی حریف میکس ورسٹاپن کو معمولی فرق سے پیچھے چھوڑ دیا اور ٹائم شیٹس میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ دونوں ڈرائیوروں کے درمیان فاصلہ صرف 0.084 سیکنڈز کا رہا۔

بی بی سی اسپورٹس کی رپورٹ کے مطابق، آسٹن کے اس پہلے سیشن میں جہاں لی کلرک نے ابتدائی برتری حاصل کی، وہیں مرسڈیز کے کیمی انٹونیلی پانچویں تیز ترین ڈرائیور رہے۔ وہ سرفہرست وقت سے 0.481 سیکنڈز پیچھے رہے۔ ان کے درمیان میک لارن کے لینڈو نورس اور مرسڈیز کے جارج رسل نے درمیانی پوزیشنز سنبھالیں، جبکہ فیراری کے لوئس ہملٹن اور میک لارن کے اوسکار پیاسٹری بالترتیب چھٹے اور ساتویں نمبر پر رہے۔

بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، یہ ہفتہ وار ریس کیمی انٹونیلی کے لیے انتہائی اہم اور فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اطالوی ڈرائیور کے پاس آسٹن میں اپنا پہلا ورلڈ ٹائٹل اپنے نام کرنے کا موقع موجود ہے، تاہم اس کے لیے شرائط یہ ہیں کہ انہیں ریس جیتنا ہوگی جبکہ ان کے ٹیم میٹ جارج رسل آٹھویں اور لوئس ہملٹن چوتھی پوزیشن سے پیچھے رہیں۔

پس منظر

بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، تمام ٹیمیں مختلف تکنیکی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے آسٹن پہنچی ہیں۔ مرسڈیز نے اپنی دونوں گاڑیوں کو اس اپ گریڈڈ اسپیشیکیشن پر واپس لے لیا ہے جو اس نے دو ریسز قبل ملائیشیا میں متعارف کروائی تھی، البتہ ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ عام تین پریکٹس سیشنز کے دوران اس اپ گریڈ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اب بھی سیٹ اپ تلاش کر رہے ہیں۔ دوسری طرف، فیراری نے اس ایونٹ کے لیے ایک نیا فلور اپ گریڈ متعارف کرایا ہے۔ چارلس لی کلرک اور لوئس ہملٹن دونوں نے اس کے فوری اثرات کو زیادہ اہمیت نہیں دی، اور ہملٹن نے بی بی سی اسپورٹس کو بتایا کہ یہ چھوٹی اپ گریڈ ایک سیکنڈ کے دسویں حصے سے بھی کم اہمیت رکھتی ہے اور اکیلے بل بوتے پر کارکردگی کے فرق کو ختم نہیں کر سکتی، البتہ بدلتے ہوئے ٹریک حالات کوئی نیا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔

اس کی اہمیت کیا ہے

دنیا بھر کے موٹر اسپورٹس کے شائقین کے لیے ابتدائی پریکٹس سیشنز وہ بنیادی اعداد و شمار فراہم کرتے ہیں جو ایک مسابقتی ریس کے ہفتے کی جھلک دکھاتے ہیں۔ اگرچہ پریکٹس کے اوقات میں کوئی چیمپئن شپ پوائنٹس نہیں ملتے، تاہم فیراری، ریڈ بل اور مرسڈیز جیسی سرفہرست ٹیموں کی ترقی اور اپ گریڈز کا جائزہ لینا موجودہ سیزن کے دوران جاری سخت تکنیکی مقابلے کی ایک واضح تصویر پیش کرتا ہے۔