ڈیجیٹل دنیا کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، اور اب جرائم بھی اس سرحد پار جال کی زد میں آنے لگے ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے ایک کارروائی کے دوران لاڑکانہ کے رہائشی وقار احمد کو قمبر شہدادکوٹ سے گرفتار کر لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ اس نے سوشل میڈیا ایپلیکیشنز کے ذریعے ایک برطانوی نابالغ لڑکی کو مبینہ طور پر فحش تصاویر بھیجیں۔ NCCIA کے ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) کی طرف سے موصول ہونے والی ایک باضابطہ درخواست پر عمل میں لائی گئی۔
ایک دوسری کارروائی کی تفصیلات بتاتے ہوئے جیو نیوز نے رپورٹ کیا کہ NCCIA کے حکام نے کراچی میں ایک 13 سالہ بچی کو ڈارک ویب سے جڑے ایک مشکوک نیٹ ورک سے بازیاب کرا لیا ہے۔ حکام نے یہ کارروائی ایک بین الاقوامی ادارے کی فراہم کردہ خفیہ معلومات اور آئی پی ایڈریسز کی مدد سے کی، جن سے مشکوک آن لائن سرگرمیوں کا اشارہ ملا تھا۔
NCCIA کے حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ کراچی کی یہ نوعمر بچی ایک ایسے آن لائن گروپ کے ہتھے چڑھ گئی تھی جو اسے خطرناک کام سونپ رہا تھا۔ مبینہ طور پر پہلا کام ایک بلی کو زہر دینے کا تھا جس سے وہ مر گئی، جبکہ دوسرے حکم میں بچی کو اپنی ذات کو شدید نقصان پہنچانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ تفتیش کاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بچی کو دوسرے خطرناک حکم پر عمل کرنے سے پہلے ہی بازیاب کرا لیا۔
پس منظر
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، یہ کارروائیاں پاکستانی سائبر کرائم حکام اور بین الاقوامی اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے اشتراکِ عمل کو ظاہر کرتی ہیں۔ برطانوی لڑکی کے معاملے میں NCA کی درخواست پر NCCIA نے کارروائی کرتے ہوئے قمبر شہدادکوٹ سے لاڑکانہ کے رہائشی کو پکڑا۔ اسی طرح، کراچی میں 13 سالہ بچی کی بازیابی بھی ایک بین الاقوامی ادارے کے فراہم کردہ آئی پی ایڈریسز کی مدد سے ممکن ہوئی، جس سے تفتیش کاروں کو وقت پر پہنچنے کا موقع ملا۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
یہ واقعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ مقامی قانون نافذ کرنے والے ادارے اب عالمی سطح پر ڈیجیٹل تفتیش کا حصہ بن رہے ہیں۔ پاکستان کے عام خاندانوں کے لیے یہ واقعات اس چھپے ہوئے خطرے کی یاد دہانی ہیں جو سوشل میڈیا اور ڈارک ویب کی دنیا میں بچوں اور نوجوانوں کو گھیرے ہوئے ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی سائبر کرائم یونٹس کی فعال شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ آن لائن ہراسانی اور شکاری نیٹ ورک اب بین الاقوامی سطح پر قانون کی گرفت میں آ رہے ہیں۔
