لاہور کی ایک مصروف سڑک پر جمعرات کے روز پیش آنے والے ایک دلخراش واقعے نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ جیو نیوز کے مطابق، ایک خاتون جب اپنی سکوٹی پر رواں دواں تھیں تو ایک شخص نے انہیں زبردستی روکا اور دن دہاڑے تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس لرزہ خیز مناظر پر مشتمل سی سی ٹی وی فوٹیج تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزم نے موٹر سائیکل روک کر خاتون کے بال کھینچے اور ان پر تھپڑوں کی بارش کر دی، جبکہ وہاں موجود تماشاچی بے حس بنے دیکھتے رہے۔

جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق مزنگ پولیس نے سیف سٹیز اتھارٹی کے کیمروں کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے ملزم غلام مصطفیٰ کو ٹریس کر کے گرفتار کر لیا۔ پولیس کے ابتدائی بیانات کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں خاتون کے چہرے پر چوٹیں آئیں اور ان کی ناک کی ہڈی بھی متاثر ہوئی۔ اس دوران ملزم کی جانب سے زمین پر پھینکے جانے والے بیگ کی وجہ سے تقریباً 90,000 روپے مالیت کا ان کا لیپ ٹاپ بھی شدید نقصان کا شکار ہوا۔

عدالتی کارروائی اور عوام کا ردعمل

جیو نیوز کے مطابق، گرفتاری کے بعد جب پولیس نے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی استدعا کی تو جوڈیشل مجسٹریٹ نے ملزم غلام مصطفیٰ کو 100,000 روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا، بشرطیکہ وہ کسی اور مقدمے میں مطلوب نہ ہو۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا اور واقعے میں تشدد کے ساتھ ساتھ شہریوں کی جانب سے بروقت مدد نہ کرنے پر بھی کڑی تنقید کی گئی۔

معاملے کی اہمیت

جیو نیوز کے مطابق اس واقعے کا نوٹس صوبائی چیف ایگزیکٹو نے بھی لیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں عدالت کی جانب سے ضمانت دی جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔ صوبائی حکومت کی سربراہ نے متاثرہ خاتون سے براہ راست ٹیلی فون پر بات کر کے ان کی ڈھارس بندھائی، جس پر خاتون نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت نے انہیں تحفظ اور انصاف کا یقین دلایا ہے جس پر وہ مطمئن ہیں۔