موٹر سائیکل کا ایک معمولی پرزہ لینے کے لیے گھر سے نکلنے والا 21 سالہ نوجوان کس طرح ہسپتال کے بستر پر جا پہنچا؟ اس سوال کا جواب اب ایک ایسے تنازع میں الجھ گیا ہے جہاں ایک طرف غمزدہ خاندان کی کہی ہوئی بات ہے اور دوسری طرف پولیس کی درج کردہ ایف آئی آر۔ جیو نیوز کے مطابق یہ واقعہ کراچی کے علاقے ناظم آباد نمبر 3 میں پیش آیا جہاں مبینہ طور پر فائرنگ کے نتیجے میں شریم خالد نامی نوجوان کی کمر کے نچلے حصے میں گولی لگی۔
واقعے کے وقت شریم کے ساتھ موجود اس کے چچازاد بھائی محمد طیب نے جیو نیوز کو بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے ان کی موٹر سائیکل کا پیچھا کیا اور بغیر کسی اشارے یا رکنے کا کہے پیچھے سے فائرنگ شروع کر دی۔ طیب کے بقول تین گولیاں سیدھی ان کی طرف چلائی گئیں جن میں سے ایک گولی ان کے پیروں کے قریب سے گزری جبکہ دوسری شریم کو جا لگی۔
جیو نیوز کے مطابق اس واقعے کے بعد لواحقین نے پولیس کے بیان کو یکسر مسترد کر دیا۔ شریم کی والدہ نے بتایا کہ ان کا بیٹا گھر کا واحد کمانے والا فرد ہے اور اس کی شادی ہونے والی تھی۔ انہوں نے پولیس کے اس عمل پر شدید سوالات اٹھاتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا۔ ایک ویڈیو بیان میں شریم نے خود بھی اپیل کی کہ پولیس ان کے علاج کے اخراجات میں تعاون کرے کیونکہ نجی ہسپتال والے محض داخلے کے لیے 20 ہزار روپے کا تقاضا کر رہے ہیں۔
اس کے برعکس جیو نیوز کے مطابق پولیس حکام کا موقف ہے کہ یہ واقعہ مبینہ طور پر ملزمان کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے دوران پیش آیا۔ ناظم آباد تھانے میں کانسٹیبل شہراز کی مدعو پر درج کی جانے والی ایف آئی آر کے مطابق گشت پر مامور اہلکاروں نے مشکوک موٹر سائیکل سواروں کو رکنے کا اشارہ کیا تو ملزمان نے فائرنگ کر دی جس کے جواب میں جوابی فائرنگ کی گئی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ شریم پولیس کی نہیں بلکہ ملزمان کی فائرنگ سے زخمی ہوا۔
پس منظر
جیو نیوز کے مطابق یہ واقعہ ناظم آباد نمبر 3 میں پیش آیا۔ فائرنگ کے بعد پولیس اہلکار خود زخمی نوجوان کو عباسی شہید ہسپتال لے گئے جہاں سے اسے مزید علاج کے لیے جناح ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ جیو نیوز کے مطابق جائے وقوعہ سے کرائم سین یونٹ نے 9 ایم ایم کے 9 اور تیس بور کے 30 خول برآمد کیے ہیں۔
اس واقعے کی اہمیت کیوں ہے
ان دونوں بیانات میں تضاد شہر میں سڑکوں پر ہونے والے مقابلوں، حفاظتی اقدامات اور پولیس گشت کے دوران جواب دہی کے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ عام شہریوں کے لیے اس طرح کے پُرتشدد واقعات شفاف تحقیقات اور کسی بھی حادثے کی صورت میں اداروں کی مدد کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
آگے کیا ہوگا
جیو نیوز کے مطابق اس واقعے کی مزید تفتیش کا عمل جاری ہے۔
