مہنگائی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ستائے عوام کے لیے ایک بار پھر سیاسی بے یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں کیونکہ جماعت اسلامی نے اپنے احتجاجی سلسلے کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر احتجاج کے تیسرے مرحلے کا اعلان کر دیا ہے جو 23 اکتوبر سے شروع ہوگا۔ اس مرحلے کے دوران ملک بھر کے تمام اضلاع میں دھرنے دیے جائیں گے۔

جیو نیوز کے مطابق، جماعت اسلامی کے ترجمان نے بدھ کے روز بتایا کہ حکومت کی کمیٹی نے اس سے قبل جماعت سے رابطہ کیا تھا تاکہ وزیراعظم شہباز شریف اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کے درمیان ملاقات کا بندوبست کیا جا سکے۔ تاہم، پارٹی کے مطابق معاملات طے پانے کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی مزید رابطہ نہیں کیا گیا۔

پس منظر

جیو نیوز کے مطابق، یہ تازہ اعلان ان واقعات کے بعد سامنے آیا ہے جن کا آغاز 22 ستمبر کو اس وقت ہوا جب جماعت اسلامی نے اسلام آباد کی طرف اپنے مارچ کا اگلا مرحلہ موخر کر دیا تھا۔ یہ التواء وزیراعظم شہباز شریف اور حافظ نعیم الرحمن کے درمیان رابطے کے بعد عمل میں آیا تھا، جس دوران وزیراعظم نے مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی اور واپسی پر ملاقات کی دعوت دی تھی۔

ان پیش رفتوں سے پہلے، جیو نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ پارٹی نے مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ملک بھر میں 510 مقامات پر دھرنے دیے تھے اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی تھی۔ جماعت اسلامی کی قیادت نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ وزیراعظم کے ساتھ کسی بھی ملاقات کا مرکز پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہوگا تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے، اور پارٹی اپنا احتجاجی سلسلہ ترک نہیں کرے گی۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

پاکستان بھر کے عام شہریوں اور صارفین کے لیے، احتجاج کی اس بحالی سے مہنگائی اور یوٹیلٹی بلوں نیز ایندھن کے اخراجات پر جاری کشیدگی واضح ہوتی ہے۔ پارٹی کا یہ مؤقف رہا ہے کہ وہ مستقبل کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرنے سے پہلے حکومت سے تحریری ضمانتیں حاصل کرے گی، جس میں پوری توجہ ایندھن کی قیمتوں اور معاشی ریلیف پر مرکوز رکھی جائے گی۔

آگے کیا ہوگا

جیو نیوز کے مطابق، احتجاجی تحریک کا تیسرا مرحلہ باضابطہ طور پر 23 اکتوبر کو شروع ہوگا، اور جمعے کے روز ملک کے تمام اضلاع میں دھرنے دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔