نئی دہلی کی ایک جیل سے سامنے آنے والے ایک انٹرویو نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور اس کے تقریباً 200 ملین مسلمانوں کے حوالے سے کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، 38 سالہ قیدی مسلم اسکالر شرجیل امام نے 29 ستمبر کو ایک بھارتی نیوز ویب سائٹ کو دیے گئے طویل انٹرویو میں بھارت کی مسلم اقلیت کے سیاسی مقام اور نمائندگی پر کھل کر بات کی۔
الجزیرہ نے بتایا کہ دی کوئنٹ کو دیے گئے انٹرویو میں شرجیل امام کا کہنا تھا کہ بھارت کے تقریباً 210 ملین مسلمانوں کا ملک کی جمہوریت میں عملی طور پر کوئی مؤثر کردار نہیں۔ انہوں نے بھارتی آئین میں مرکزیت کے رحجان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ملک کے سیکولرازم کو اسلام دشمن اور تنگ نظر قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جمہوریت کو مسلمانوں کے سیاسی حقوق اور نمائندگی سے محروم رکھنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، شرجیل امام کا تعلق بہار کے ضلع جہاں آباد سے ہے۔ انہوں نے آئی آئی ٹی بمبئی سے کمپیوٹر سائنس میں گریجویشن کیا اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں بھارتی مسلمانوں کی سیاسی تاریخ پر ڈاکٹریٹ کی تعلیم حاصل کرنے سے پہلے بطور سافٹ ویئر انجینئر بھی کام کیا۔
پس منظر
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت نے 2019 میں شہریت ترمیمی قانون یعنی سی اے اے منظور کیا تھا، جس کے تحت پڑوسی ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر مسلم پناہ گزینوں کو شہریت دینے کا تیز رفتار راستہ فراہم کیا گیا۔ اقوام متحدہ نے اس قانون کو مسلمانوں کے خلاف بنیادی طور پر امتیازی سلوک قرار دیا تھا۔
شہریت کے اس قانون کی منظوری کے بعد ملک بھر میں سی اے اے کے خلاف احتجاج شروع ہو گئے تھے، جن میں نئی دہلی کے شاہین باغ میں ہفتوں جاری رہنے والا دھرنا مرکزی حیثیت رکھتا تھا جس کی قیادت بنیادی طور پر مسلم خواتین نے کی تھی۔ الجزیرہ نے واضح کیا کہ شرجیل امام شاہین باغ کے مظاہرے کے مرکزی منتظمین میں شامل تھے اور انہیں جنوری 2020 میں ان مظاہروں کے دوران تقاریر کے ذریعے مبینہ طور پر تشدد پر اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس کے اگلے ماہ تک شمال مشرقی نئی دہلی میں کوئی تشدد نہیں ہوا تھا، جہاں مسلم محلوں میں جاری دھرنوں پر حکموت کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں کی نفرت انگیز تقاریر سے ابھارے گئے ہجوم نے حملے کیے تھے۔
اہمیت
خطے کے قارئین کے لیے اقلیتوں کے حقوق، ریاستی سیکولرازم اور آئینی ڈھانچے سے متعلق یہ بحثیں گہرے اثرات رکھتی ہیں۔ سیاسی نمائندگی، سی اے اے جیسے قانون سازی کے اقدامات اور بڑی مذہبی اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے بارے میں جاری عوامی بحث اس بات کا اہم سیاق و سباق فراہم کرتی ہے کہ کس طرح جمہوری ادارے اور آئینی تحفظات کثیر القومی معاشروں کا دفاع کرتے ہیں۔

