تل ابیب میں انتخابی تقریبات کے دوران حامیوں کے نعروں اور سیاسی رہنماؤں کے تلخ ردعمل کے درمیان، اسرائیل میں سامنے آنے والے ایگزٹ پولز نے ایک بار پھر گہرے سیاسی انتشار اور بے یقینی کو بے نقاب کر دیا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ اور اسرائیل کے چینل 13 کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کی قیادت میں بننے والا اتحاد اور چیلنجر گادی آئزن کوٹ کی زیرقیادت اپوزیشن بلاک 51، 51 نشستوں پر برابر ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں نے ایگزٹ پولز کے ان نتاینج کے باوجود حکومتی اتحاد کی شکست کا دعویٰ کیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، یشار پارٹی کے سربراہ اور سابق آرمی چیف آف اسٹاف گادی آئزن کوٹ نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تخمینے نیتن یاہو اور سات اکتوبر کی حکومت پر مکمل عدم اعتماد کا اظہار ہیں۔ ایک بیان میں اپوزیشن رہنما یائیر لپڈ کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو کا بلاک کچل دینے والی شکست اور مکمل انہدام کا شکار ہو چکا ہے۔

دوسری جانب، الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، نیتن یاہو کے خیمے کے سینیئر رہنماؤں نے ان دعووں کو یکسر مسترد کر دیا۔ اسرائیل کے وزیر خارجہ اور نیتن یاہو کے قریبی اتحادی گیڈیون سار نے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اپوزیشن کے بیانات کو قبل از وقت قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ لیکوڈ اب بھی پارلیمنٹ میں سب سے بڑی واحد جماعت ہے۔

الجزیرہ کے مطابق، غیر وابستہ عرب جماعتیں 18 نشستیں حاصل کرنے کی توقع رکھتی ہیں، جس کی وجہ سے دونوں بڑے سیاسی خیمے مطلق اکثریت کے لیے درکار 61 نشستوں سے 10 نشستیں پیچھے رہ گئے ہیں۔ سینٹرل الیکشن کمیٹی کے حوالے سے الجزیرہ نے بتایا کہ انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد رہا۔

پس منظر

الجزیرہ کے مطابق، ان انتخابی پیش رفتوں سے قبل مہم کے دوران اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کی جانب سے بڑی تعداد میں شرکت دیکھنے میں آئی۔ جوائنٹ لسٹ الائنس کے ناصرہ میں واقع ہیڈ کوارٹر میں حامیوں سے بات کرتے ہوئے امیدوار فاتح گٹاس نے بتایا کہ ان کے ووٹ کا مقصد نیتن یاہو کے قوم پرست اتحاد کی واپسی کو روکنا تھا، جیسا کہ رائٹرز نے رپورٹ کیا۔ یونائٹڈ عرب لسٹ (رعام) کے رہنما منصور عباس نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا دھڑا حاصل ہونے والے مینڈیٹ کو ملک میں ایک نئی حقیقت میں بدل دے گا۔ الجزیرہ نے سینٹرل الیکشن کمیٹی کے حوالے سے مزید بتایا کہ ووٹر ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد رہا۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

بین الاقوامی مشاہدین اور عالمی پارلیمانی سیاست پر نظر رکھنے والوں کے لیے، کانٹے کے مقابلے اور ہنگ پارلیمنٹ اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ حکومت سازی اور قانون سازی کے استحکام میں چھوٹی جماعتوں اور اتحادی مذاکرات کا کردار کتنا اہم ہوتا ہے۔

آگے کیا ہوگا

الجزیرہ کے مطابق، آنے والے دنوں میں باضابطہ اتحادی مذاکرات کا آغاز ہونے جا رہا ہے، جبکہ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چونکہ کوئی بھی خیمہ برسرِ اقتدار آنے کے لیے مطلوبہ اکثریت تک نہیں پہنچ سکا، اس لیے اب چھوٹی جماعتیں ہی اصل فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔