الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق، منگل کو ہونے والے اسرائیلی پارلیمانی انتخابات کے بعد سیاسی عدم استحکام اور گہرا ڈیڈلاک سامنے آیا ہے جہاں کسی بھی بڑے سیاسی بلاک کو حکومت بنانے کے لیے فوری طور پر واضح اکثریت حاصل ہوتی نظر نہیں آ رہی۔

چینل 12 کے ایگزٹ پولز کے مطابق، وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا بلاک 120 کے ایوان (کنیسٹ) میں 52 نشستیں حاصل کر سکتا ہے جبکہ ان کے اہم حریف اور سابق آرمی چیف گادی آئزن کوٹ کی جماعت 'یشار' 49 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ دوسری طرف، چینل 13 کے جاری کردہ اعداد و شمار میں دونوں حریف بلاکس کو 51، 51 نشستیں ملنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

الجزیرہ نے خبر دی ہے کہ دونوں چینلز کے تازہ ترین جائزوں کے مطابق نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی پارلیمنٹ میں سب سے بڑی واحد جماعت بن کر ابھر رہی ہے، جسے 21 سے 27 کے درمیان نشستیں ملنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ، عرب جماعتیں مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کرتی دکھائی دے رہی ہیں جو کہ 2022 کے انتخابات کے مقابلے میں ان کی بہتر کارکردگی کو ظاہر کرتی ہیں۔

اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ نے یشار پارٹی کے صدر دفتر میں اپنے حاملین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا ہے اور ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس کے برعکس، وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنے حترمین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لیکوڈ پارٹی کی برتری اب بھی برقرار ہے اور انہوں نے فوری طور پر ایک دائیں بازو کی قومی حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

پس منظر

الجزیرہ کے مطابق، منگل کے یہ انتخابات بنیادی طور پر وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی قیادت اور ان کی انتظامیہ کی جانب سے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں اور اس کے بعد غزہ میں شروع ہونے والی جنگ سے نمٹنے کی پالیسیوں پر ایک ریفرنڈم کی حیثیت رکھتے تھے۔ یہ انتخابات ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب مقبوضہ مغربی کنارے میں کشیدگی اور تشدد عروج پر ہے، جبکہ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی کشیدہ حالات اور محاذ آرائی جاری ہے۔

اسرائیلی پارلیمانی نظام کے تحت کسی بھی جماعت کو اکیلے حکومت بنانے کے لیے 61 نشستوں کی اکثریت درکار ہوتی ہے، لیکن ملکی تاریخ میں کبھی کسی ایک جماعت نے تنہا یہ اکثریت حاصل نہیں کی۔ چونکہ ایگزٹ پولز حتمی نتائج نہیں ہوتے اس لیے اصل نتائج سامنے آنے کے بعد ان اعداد و شمار میں تبدیلی بھی آ سکتی ہے۔

اس کی اہمیت کیا ہے

عالمی امور پر نظر رکھنے والے حلقوں کے لیے اسرائیل میں ہونے والی سیاسی تبدیلیاں بہت اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ اس خطے میں جاری تنازعات اور انسانی بحران پوری دنیا کو متاثر کرتے ہیں۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کی تشکیل اور وہاں بننے والی نئی حکومت کی پالیسیاں براہ راست علاقائی سفارتکاری اور عسکری فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

آگے کیا ہوگا

الجزیرہ کے مطابق، ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد اب ابتدائی سرکاری نتائج جاری کیے جائیں گے جس کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ اگلی حکومت بنانے کے لیے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔