الجزیرہ کی اطلاعات کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے اپنی دفاعی حکمت عملی میں ایک نمایاں تبدیلی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت اب دفاعی پوزیشن کو حملہ آور رخ دے دیا گیا ہے۔ یہ اہم فوجی تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں براہ راست صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔
الجزیرہ کی 22 اکتوبر 2026 کی تازہ ترین اپ ڈیٹس میں پاسداران انقلاب کے ان بیانات کو خصوصی طور پر اجاگر کیا گیا ہے جن میں اسٹریٹجک تبدیلی کا ذکر کیا گیا۔ رپورٹنگ میں خلیج اور آبنائے ہرمز کے قریب سمندری ٹریفک کی نقل و حرکت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ الجزیرہ کے مطابق دبئی، متحدہ عرب امارات میں 21 اکتوبر 2026 کی تاریخ پر مبنی ایک کارگو جہاز کی تصویر بھی سامنے آئی جو خلیج سے آبنائے ہرمز کی طرف محو سفر تھا۔
پس منظر
الجزیرہ کی جانب سے جاری کردہ ان تازہ ترین اطلاعات میں خطے میں جاری فوجی اقدامات اور حملوں کے حوالے سے مسلسل نگرانی اور رپورٹنگ کی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ خلیج کے سمندری راستوں اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، جہاں تجارتی جہاز رانی بھی اس تنازع کی زد میں ہے۔
یہ اہم کیوں ہے
خلیج اور آبنائے ہرمز کی یہ تبدیلیاں پاکستان کے لیے گہرے اقتصادی اور اسٹریٹجک اثرات کی حامل ہیں۔ پاکستان کی خطے سے قربت، توانائی کی سپلائی کا انحصار اور مشرق وسطیٰ میں مقیم لاکھوں پاکستانی تارکین وطن کی سلامتی ایسے اہم عوامل ہیں جو اس خطے میں رونما ہونے والی ہر پیش رفت کو پاکستان کے لیے انتہائی حساس بناتے ہیں۔

