جنوبی سوڈان کے شہر رومبیک میں ہونے والے پرتشدد واقعات نے ایک بار پھر خطے کے سنگین حالات کو بے نقاب کر دیا ہے، جہاں مختلف گروہوں کے درمیان خونی جھڑپوں کے نتیجے میں 4 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 71 افراد ہلاک ہو گئے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق نگران حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ اچانک پھوٹ پڑنے والا تشدد اس وقت شروع ہوا جب باہر سے آنے والے افراد نے اس علاقے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی، جس کے بعد فوج اور پولیس نے فوری طور پر کارروائی کی۔
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق چشم دید گواہوں کا کہنا ہے کہ حملہ آور کچھ دیر کے لیے رومبیک پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے، تاہم سکیورٹی کی اضافی نفری کے پہنچنے پر وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔ دو گواہوں کا بتانا ہے کہ اس کے بعد لڑائی کا دائرہ کار شہر کی حدود سے باہر منتقل ہو گیا۔ جنوبی سوڈان کی عبوری وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی حتمی تعداد کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے جبکہ نگران حکومت نے فریقین سے انتہائی تحمل کا مظاہر کرنے اور انتقامی کارروائیوں سے گریز کرنے کی پرزور اپیل کی ہے۔
پس منظر
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق رومبیک میں یہ خون خرابہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں ایک نازک سیاسی تبدیلی کا عمل جاری ہے۔ صدر سالوا کییر نے 22 ستمبر کو عبوری حکومت کو تحلیل کرنے کا صدارتی حکم نامہ جاری کیا تھا، جو 2011 میں آزادی کے بعد ملک کے پہلے عام انتخابات سے محض تین ماہ قبل سامنے آیا۔ اس اقدام سے اس پاور شیئرنگ معاہدے کا خاتمہ ہو گیا جو 2018 کے امن معاہدے کے تحت طے پایا تھا جس نے پانچ سالہ خانہ جنگی کا خاتمہ کیا تھا، اس خانہ جنگی کے دوران تقریباً 4 لاکھ افراد لقمہ اجل بنے تھے۔ جنوبی سوڈان میں قبائلی و باہمی تنازعات کا سلسلہ جاری ہے، جن میں 17 ستمبر کو متنازع سرحدی علاقے میں ہونے والا تصادم بھی شامل ہے جس میں 26 افراد جاں بحق اور 82 زخمی ہوئے تھے، جبکہ مارچ کے اوائل میں ہونے والے ایک حملے میں کم از کم 169 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس صورتحال کی اہمیت
عالمی مبصرین کے لیے، ایک اہم انتخابی منتقلی کے دوران تشدد کا یہ تسلسل بعد از جنگ حکومت کی کمزوری اور ان گہرے چیلنجوں کو اجاگر کرتا ہے جن کا سامنا ملکوں کو جمہوری سنگ میل طے کرنے سے پہلے سکیورٹی، اقتدار میں شراکت کے انتظامات اور سماجی ہم آہنگی کے معاملات سے نپٹنے کے دوران کرنا پڑتا ہے۔

