نئی دہلی کے تاریخی مقام جنتر منتر پر پولیس کی بھاری رکاوٹیں عبور کرنے والے 'کاکروچ جنتا پارٹی' (سی جے پی) کے رہنماؤں کو منگل کے روز حراست میں لے لیا گیا۔ بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، سی جے پی کے اراکین آستوش رنکا اور سوربھ داس نے اس سیل شدہ مقام میں داخل ہو کر ملک کے الیکشن چیف کے استعفے کا مطالبہ کیا، جس کے بعد حکام نے انہیں فوری طور پر حراست میں لے لیا۔
یہ گرفتاریاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئیں جب مظاہرین دارالحکومت میں عوامی احتجاج پر عائد سخت پابندیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ بی بی سی نیوز کے مطابق، پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ایک ایسی ویڈیو شیئر کی جس میں ان کے ساتھیوں کو پولیس کی طرف سے لے جایا جا رہا ہے۔ مسٹر رنکا نے بعد میں دیگر زیر حراست افراد کے ساتھ پولیس بس سے لائیو نشریات میں پرعزم انداز میں یہ عزم ظاہر کیا کہ وہ ووٹر لسٹوں کی متنازعہ نظرثانی کے مطالبات سے پ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
پس منظر
بی بی سی نیوز کے مطابق، تازہ ترین کشیدگی کا آغاز ووٹر لسٹوں کی متنازعہ نظرثانی پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبات سے ہوا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے مخالفین نے الزام لگایا ہے کہ ووٹر لسٹ کی نظرثانی سے حکمران جماعت کو فائدہ پہنچتا ہے، جبکہ حکمران جماعت اور الیکشن کمیشن دونوں نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔
یہ گرفتاریاں اس اعلان کے ایک دن بعد عمل میں آئیں جب وفاقی وزارت داخلہ نے یہ ہدایت جاری کی تھی کہ جنتر منتر کو اب احتجاج کا باضابطہ مقام نہیں رکھا جائے گا، اور مظاہرین کو پیشگی اجازت کے ساتھ تین متبادل مقامات کی طرف جانے کی ہدایت کی گئی۔ فیصلے سے قبل، سی جے پی کے نمائندوں نے پرامن مظاہرے کی اجازت کے لیے دہلی پولیس کے حکام سے ملاقات کی تھی اور خبردار کیا تھا کہ اگر کوئی جواب نہ ملا تو وہ مزید احتجاج کا اعلان کریں گے۔
اس کی کیا اہمیت ہے
پاکستان اور پورے خطے کے مبصرین کے لیے، عوامی اجتماعات پر پابندیاں اور انتخابی شفافیت پر تنازعات اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ جمہوری اداروں کو عوامی اختلافِ رائے اور سیاسی اپوزیشن کی نگرانی کے معاملے میں کن چالنجز کا سامنا ہے۔
آگے کیا ہوگا
بی بی سی نیوز کے مطابق، دہلی میں جاری گرفتاریوں اور پولیس کے اقدامات کے علاوہ کسی مزید متوقع واقعے کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔

