پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ میں ایک اہم قانونی جنگ کا آغاز ہو گیا ہے جہاں ایک وکیل جوڑے نے اپنے جاری مقدمے کی کارروائی کو چیلنج کر دیا ہے۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، انسانی حقوق کی کارکن اور وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کے توسط سے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے 19 اکتوبر کے حکم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

جیو نیوز کے مطابق اس جوڑے کی جانب سے دائر کی گئی اپیل میں ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو ہدف بنایا گیا ہے جس میں سیکیورٹی بریچ کے مقدمے میں عبوری ریلیف کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔ یہ مقدمہ تھانہ آبپارہ میں درج کیا گیا تھا اور اس کا پس منظر یہ ہے کہ اکتوبر 2024ء میں ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے دورے کے دوران مبینہ طور پر ریاستی امور میں مداخلت کے باعث جوڑے پر سیکیورٹی کے لیے خطرہ بننے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

جیو نیوز کے مطابق اسلام آباد کی ایک انسدادِ دہشت گردی عدالت نے اس ماہ کے شروع میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فردِ جرم عائد کر دی تھی، حالانکہ مل ملزمان کا اعتراض تھا کہ انہیں مقدمے کے کاغذات کی نقول فراہم نہیں کی گئیں۔ سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دفاعی فریق کو جرح کا موقع دیے بغیر دو استغاثہ کے گواہان کے بیانات قلمبند کر لیے گئے، اور عدالتِ عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ ٹرائل کورٹ کو مزید کارروائی سے روکے۔

پس منظر

جیو نیوز کے مطابق اس قانونی کارروائی کا سلسلہ اسلام آباد کے متعدد عدلیہ فورمز پر جاری ہے۔ سپریم کورٹ میں اپیل کے ساتھ ساتھ، جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس شاہ رخ ارجمند پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک بینچ نے جوڑے کی اس الگ درخواست پر بھی سماعت کی جس میں جیل ٹرائل کرانے کے فیصلے اور سرکاری وکیل کی تقرری کو چیلنج کیا گیا تھا۔

اس سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلاء ایڈووکیٹ ریاست علی آزاد اور زینب جنجوعہ نے اس قانونی اختیار پر سوال اٹھایا کہ ملزمان کا مؤقف سنے بغیر جیل ٹرائل شروع کرنے کا فیصلہ کیسے کیا گیا۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ اگرچہ اس سمری کا آغاز اسلام آباد کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی جانب سے ہوا اور اسے چیف کمشنر کی جانب سے حتمی منظوری ملی، لیکن اس طرح کے عمل کو شروع کرنے کا اصل اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے۔

جیو نیوز کے مطابق جسٹس منہاس نے کھلی عدالت کے تصور اور ٹرائل کے مقامات کے حوالے سے اختیارات پر سوالات اٹھائے، جبکہ ایڈووکیٹ ریاست علی آزاد نے نشاندہی کی کہ جیل کے اندر ہونے والی کارروائی میں صحافی اور عام شہری شرکت نہیں کر سکتے۔ دفاعی وکلاء نے یہ بھی بتایا کہ مقدمے میں شامل جرائم قابلِ ضمانت ہیں اور مقدمے میں دہشت گردی کی دفعہ شامل کرنے پر بھی سوال اٹھایا۔

یہ معاملہ کیوں اہم ہے

پاکستان کے عام ناظرین اور قانونی ماہرین کے لیے یہ کارروائی کھلی عدالت تک رسائی، ٹرائل کے طریقۂ کار، اور جیل خانوں کے اندر عدلیہ کی سماعتوں کے پروٹوکول سے جڑے اہم مباحث کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ مقدمہ ہائی پروفائل معاملات میں سیکیورٹی اقدامات، فوجداری ضابطے اور دفاع کے حقوق کے مابین تعلق کو عوام کی توجہ کا مرکز بناتا ہے۔