گزشتہ سال نومبر میں جب ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان اور سربیا کے صدر الیگزینڈر وُچیچ نے سوبوتیسا کے ایک مقامی تندور پر روایتی بریک پیسٹری کا دوپہر کا کھانا کھایا تھا، تو وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایک سال کے اندر اندر دونوں کا اقتدار ختم ہو جائے گا۔ بی بی سی نیوز کے مطابق دونوں طویل عرصے سے برسرِ اقتدار رہنماؤں کو بالآخر عوامی تحریکوں نے اقتدار سے باہر کر دیا۔ ہنگری میں پیٹر میگیار کی تسا پارٹی کے ہاتھوں شکست کے بعد اپریل میں وکٹر اوربان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، جبکہ اس کے بعد سربیا کے پارلیمانی انتخابات میں طلبہ تحریک کی شاندار فتح نے سب کو حیران کر دیا۔

بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ہنگری کی تسا پارٹی اور سربیا کی سٹوڈنٹ لسٹ کی ساخت ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھی۔ تسا پارٹی اپنے رہنما کی شخصیت اور توانائی کے گرد گھومتی تھی، جبکہ سربیا کے طلبہ کا اصرار تھا کہ ان کا کوئی ایک رہنما نہیں۔ ان تحریروں کی ساخت میں فرق کے باوجود دونوں ممالک میں ٹیکنالوجی کے ماہر نوجوانوں کی بدولت ہنگری میں 79 فیصد اور سربیا میں 69 فیصد تک بلند ٹرن آؤٹ دیکھنے میں آیا۔ ان نوجوانوں نے اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے، ووٹ کے راستے میں حائل رکاوٹوں کا پتہ لگانے اور دسیوں ہزار انتخابی مبصرین کو متحرک کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے ٹولز کا بھرپور استعمال کیا۔

بی بی سی نیوز کی تفصیلات کے مطابق اس پورے عمل میں سرحد پار تعاون نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ہنگری کے ڈی ای سول ایکشن گروپ نے سربیا کے انتخابات کے دوران 70 انتخابی مبصرین سربیا کے شمالی صوبے ووئودینا بھیجے تاکہ وہ وہاں کے طلبہ تحریک کے نمائندوں کے ساتھ مل کر کام کر سکیں۔ گرمیوں کے دوران ان گروہوں نے ورکشاپس کا انعقاد کیا تاکہ اپنے تجربات اور طریقہ کار ایک دوسرے کے ساتھ بانٹ سکیں۔ ان کی ایک اہم تکنیک ان انتخابی حلقوں کی پہلے سے نشاندہی کرنا تھی جہاں پچھلے انتخابات میں حکمران جماعت کو غیر معمولی طور پر زیادہ ووٹ ملے تھے، جو کہ مبینہ طور پر ووٹرز کو ڈرانے دھمکانے یا جعلی ووٹنگ کی طرف اشارہ کرتے تھے۔

طالب علم کارکن پیٹر کلیلم نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ انہوں نے انتخابات کے دن دوپہر کے وقت پولنگ سٹیشنوں کے قریب نقاب پوش غنڈوں اور حامیوں کے جم غفیر دیکھے، جس کے بعد رضا کاروں نے فوری طور پر موبائل ٹیمیں روانہ کیں اور تمام کارروائی کی فلم بندی کی۔ ان کا ماننا ہے کہ ہر خطرناک پولنگ سٹیشن پر 20 سے 30 ایسے رضاکاروں کی موجودگی نے جو ایک ہی جگہ یا متحرک رہتے ہیں، دھمکیاں دینے اور انتخابی دھاندلی کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔

پس منظر

بی بی سی نیوز کے مطابق ہنگری کے وکٹر اوربان اور سربیا کے الیگزینڈر وُچیچ طویل عرصے سے ناقابلِ شکست دکھائی دیتے تھے اور وہ بالترتیب 16 اور 14 سال سے اقتدار میں تھے۔ دونوں رہنماؤں نے سرکاری اداروں پر اپنا کنٹرول مضبوط کر رکھا تھا اور تجارتی ادارے قائم کیے تھے جن کے مفادات دونوں ممالک میں آپس میں جڑے ہوئے تھے۔ اقتدار سے ہٹائے جانے سے پہلے ان کے تعاون میں تیل اور دیگر کاروباری سودوں پر بات چیت بھی شامل تھی، جیسے کہ ہنگری کی جانب سے سربیا کے نِس آئل کو خریدنے کا منصوبہ۔

اس کی کیا اہمیت ہے

عام قارئین کے لیے ہنگری اور سربیا کے یہ واقعات اس بات کی واضح مثال ہیں کہ کس طرح زمینی سطح پر عوامی رابطہ، نوجوانوں کی زیرِ قیادت شہری شرکت اور انتخابی نگرانی کے طریقوں کا سرحد پار تبادلہ طویل عرصے سے قابض قیادت کے خلاف بھی سیاسی منظرنامے کو بدل سکتا ہے۔ یہ رپورٹس انتخابی عمل کے تحفظ میں ٹیکنالوجی، ڈیٹا کے تجزیے اور شہریوں کی مربوط نگرانی کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کرتی ہیں۔