اگست کی ایک دوپہر جب 45 سالہ حنا جاوید راولپنڈی کے علاقے لعل کرتی میں اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائیں گئیں، تو لواحقین کو انصاف کی شفاف امید تھی۔ لیکن مہینوں گزرنے کے بعد اب حنا جاوید کے خاندان نے پولیس تحقیقاتی کمیٹی کی کارکردگی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے نام باضابطہ خط لکھ کر ایک آزاد جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کر دیا ہے۔

جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق حنا جاوید کی لاش 21 اگست کو ان کے گھر کے باتھ روم سے ملی تھی۔ قتل کا مقدمہ حنا کے بھائی کی مدعیت میں تھانہ سول لائنز میں درج کیا گیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ مقتولہ کو موت سے قبل تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

جیو نیوز کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ہولناک انکشافات سامنے آئے، جن کے مطابق مقتولہ کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی، پسلیوں اور کولہے پر چوٹوں کے نشانات پائے گئے جبکہ دل کے ارد گرد خون جمع ہونے کی تصدیق بھی ہوئی۔

پولیس نے اس معاملے میں مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر اور گھریلو ملازم ذیشان ارشاد کو گرفتار کر لیا جبکہ سسر کو بھی تفتیش میں نامزد کیا گیا، جیسا کہ جیو نیوز نے تفصیلی بتایا۔ تاہم بعد میں ملزم ذیشان کے اہل خانہ نے پولیس پر یہ الزام عائد کیا کہ ان کے بیٹے کو زبردستی اصل ملزم بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

صوبائی قیادت کو لکھے گئے خط میں حنا کے رشتہ داروں نے واضح کیا کہ وہ پولیس تحقیقاتی کمیٹی کے طریقہ کار پر اعتماد کھو چکے ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق خاندان نے فرانزک شواہد کی مبینہ غفلت پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مقتولہ کی گردن پر فیصل اور اس کے والد کا ڈی این اے ملا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مقتولہ کے سسر نے ابتدا میں گھر میں چوری کی اطلاع دی تھی، موبائل فونز کی فرانزک رپورٹس تاحال التواء کا شکار ہیں اور حنا کے فون سے مبینہ طور پر اہم پیغامات بھی ڈیلیٹ کیے گئے ہیں۔

ان تمام اپیلوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جیو نیوز کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ تفتیش کا عمل تاحال مکمل نہیں ہوا۔ انہوں نے مقتولہ کے خاندان کو انصاف کی فراہمی میں کوئی کسر نہ چھوڑنے کی یقین دہانی کرائی اور سوگوار رشتہ داروں سے خود ملاقات کرنے کا وعدہ بھی کیا۔

پس منظر

جیو نیوز کی رپورٹس کے مطابق اس کیس کا محور 21 اگست کو راولپنڈی کے علاقے لعل کرتی میں 45 سالہ حنا جاوید کی پراسرار موت ہے۔ واقعے کی ابتدائی ایف آئی آر مقتولہ کے بھائی کی مدعیت میں تھانہ سول لائنز میں درج کی گئی تھی جس میں جسمانی تشدد کا الزام عائد کیا گیا۔ سرکاری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گردن کی ہڈی ٹوٹنے، پسلیوں اور کولہے پر چوٹوں اور دل کے پاس خون کے جمنے کی تصدیق کی گئی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس کے بعد شوہر فیصل اصغر اور ملازم ذیشان ارشاد کو حراست میں لیا جبکہ سسر کو بھی تفتیش کے دائرے میں رکھا گیا۔ تفتیش کی سمت کے حوالے سے اختلافات اس وقت سامنے آئے جب ذیشان کے اہل خانہ نے اپنے بیٹے کو پھنسانے کا الزام لگایا، جبکہ حنا کے خاندان کا کہنا تھا کہ جامع فرانزک اور ڈیجیٹل رپورٹس کو حتمی شکل دینے سے پہلے فیصل سے متعلق شواہد کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

اس معاملے کی اہمیت کیا ہے

پاکستان بھر کے عام شہریوں کے لیے فوجداری تحقیقات اور انصاف کا حصول ریاست اور عوام کے مابین بنیادی معاہدے کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب سوگوار خاندان کھلم کھلا مقامی پولیس کے طریقہ کار پر عدم اعتماد کا اظہار کریں اور اعلیٰ سطح کی عدلیہ کی نگرانی کا مطالبہ کریں، تو یہ شواہد کی دیکھ بھال، فرانزک شفافیت اور قانون کے غیر جانبدارانہ نفاذ سے متعلق عوامی تشویش کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ کیس اس بات پر زور دیتا ہے کہ پیچیدہ مجرمانہ مقدمات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کو عدالتوں تک پہنچنے سے پہلے یقینی بنایا جائے۔