جب مائیکل کیرک نے 4-1 کی شکست کے بعد پریشان حال شائقین کے سامنے معذرت میں ہاتھ اٹھائے، تو یہ ایک ایسا مانوس منظر تھا جو سر ایلکس فرگوسن کے جانے کے بعد سے مانچسٹر یونائیٹڈ کے ہر مینیجر کا مقدر بن چکا ہے۔ بی بی سی اسپورٹ کے مطابق کلب تمام مقابلوں میں گزشتہ سات میچوں سے فتح سے محروم ہے، جس نے کیرک کو ناکامی کے اس دلدل میں لا کھڑا کیا ہے جہاں سے نکلنا مشکل نظر آتا ہے۔
بی بی سی اسپورٹ کی رپورٹ کے مطابق، چیمپئنز لیگ میں شکست کے بعد، دفاعی کھلاڑی لیساندرو مارتینیز نے فٹ بال کے ڈائریکٹر جیسن ولکوکس پر تنقید کی، جبکہ کپتان برونو فرنینڈس نے ٹیم کی حکمت عملی پر سوال اٹھائے۔ سن 2013 میں 26 سال کے طویل دور میں 38 ٹرافیوں کے ساتھ سر ایلکس فرگوسن کے سبکدوش ہونے کے بعد سے مائیکل کیرک اس کلب کے ساتویں مستقل مینیجر ہیں۔
پس منظر
بی بی سی اسپورٹ کے مطابق سر ایلکس فرگوسن کے جانے کے بعد مانچسٹر یونائیٹڈ سات مستقل مینیجرز کو تبدیل کر چکا ہے، جن میں ڈیوڈ موئس، لوئس فان گال، ژوزے مورینیو، اولے گنار سولسجائر، ایرک ٹین ہاگ، روبن اموریم اور مائیکل کیرک شامل ہیں۔ اس دوران ریان گیگز، رالف رنگینک، روڈ فان نسٹلروئے اور ڈیرن فلیچر جیسے ناموں نے عبوری ذمے داریاں بھی سنبھالی ہیں۔ سابق ایگزیکٹو وائس چیئرمین ایڈ ووڈوارڈ سے لے کر گلیزر فیملی اور حصص یافتہ سر جم ریٹکلف تک، کلب کی قیادت نے ماضی کی کامیابیوں کو لوٹانے کے لیے کئی طریقے آزمائے اور مختلف پس منظر رکھنے والے مینیجرز کو لائے، مگر ہر بار ہر دور کا انجام برطرفی پر ہی ہوا۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
پاکستان سمیت دنیا بھر کے فٹ بال شائقین کے لیے، کھیل کے اس سب سے بڑے نام کی مشکلات جدید کلب مینجمنٹ کے شدید دباؤ اور نظام کے مسائل کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس سے یہ بنیادی سوالات اٹھتے ہیں کہ کیا یہ مسلسل خراب کارکردگی صرف کوچنگ کے فیصلوں کا نتیجہ ہے یا پھر کلب کی اعلیٰ قیادت کے اندر گہرے انتظامی مسائل چھپے ہیں۔

