پچاس دن کے طویل قانونی مراحل اور مسلسل جسمانی ریمانڈ کے بعد، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما حماد اظہر کو عدالت کے حکم پر جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، منگل کے روز پولیس نے حراست میں موجود سیاسی رہنما کو ان کا تازہ ترین جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش کیا۔

جیو نیوز کے مطابق اس سے قبل 15 اکتوبر کو انسدادِ دہشت گردی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما کے جسمانی ریمانڈ میں 12 دن کی توسیع کی تھی۔ ملتان سے گرفتاری کے بعد حماد اظہر کو لاہور پولیس کے حوالے کیا گیا تھا۔ پولیس ذرائع کے حوالے سے جیو نیوز نے بتایا کہ انہیں 9 مئی 2023 کے پُرتشدد واقعات کے سلسلے میں درج متعدد مقدمات میں اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔

پس منظر

جیو نیوز کے مطابق، حماد اظہر پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں وفاقی وزیر کے طور پر فرائض انجام دے چکے ہیں اور انہوں نے اگست 2024 میں پارٹی کے پنجاب باب کے صدر کے عہدے سے استعفا دے دیا تھا۔ اس وقت اپنے استعفے کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے جیل میں قید پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان تک رسائی نہ ہونے اور اپنی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کا ذکر کیا تھا۔ 9 مئی کے فسادات کے بعد درج ہونے مقدمات میں نامزد ہونے کے بعد وہ روپوش رہے تھے۔

9 مئی 2023 کو ہونے والے ہنگامے اس وقت شروع ہوئے جب پی ٹی آئی کے بانی کو ایک کرپشن کیس کے سلسلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے حراست میں لیا گیا تھا۔ جیو نیوز کے مطابق، سابق وزیرِ اعظم کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پارٹی کے ہزاروں حامیوں نے سرکاری املاک اور عسکری تنصیبات پر دھاوا بول دیا تھا، جن میں لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس بھی شامل تھا۔

یہ معاملہ کیوں اہم ہے؟

پاکستان کے عام قارئین کے لیے اہم سیاسی شخصیات کے گرد گھومنے والی قانونی پیش رفت ہمیشہ سے خاص توجہ کا مرکز رہی ہے، کیونکہ عدالتیں مئی 2023 کے دوران ہونے والی خانہ جنگی اور بدامنی کے مقدمات کو نمٹا رہی ہیں۔ جاری عدالتی کارروائیاں ان قانونی اقدامات کی عکاسی کرتی ہیں جو انسدادِ دہشت گردی عدالت کے نظام کے تحت سرکاری املاک اور فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہونے کے الزام کا سامنا کرنے والوں کے خلاف اٹھائے جا رہے ہیں۔