فرانس میں ڈیجیٹل سبوٹاج کی ایک لہر نے تجارتی شعبے کو ہلا کر رکھ دیا جہاں ہیکرز نے ڈیجیٹل نظام میں نققب لگاتے ہوئے سپر مارکیٹس کے کولنگ سسٹمز کو دور بیٹھے کنٹرول کیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اس حملے میں فریجوں کا درجہ حرارت بڑھا کر 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا دیا گیا، جس سے نہ صرف آگ بھڑک اٹھی بلکہ سینکڑوں اسٹورز کو لاکھوںٹن خوراک ضائع کرنا پڑی اور الماریاں خالی رہ گئیں۔
الجزیرہ نے بتایا کہ اس خطرناک سائبر حملے کی وجہ سے متاثرہ کاروباری اداروں کو لاکھوں ڈالر کا مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس واقعے نے روزمرہ کے تجارتی سپلائی چینز اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے، جہاں دور بیٹھے عناصر نے منسلک سسٹمز کا غلط استعمال کر کے حقیقی دنیا میں تباہی پھیلائی۔
پس منظر
رپورٹ کے مطابق ہیکرز نے خاص طور پر سپر مارکیٹس کے ریفریجریشن یونٹس کو نشانہ بنایا۔ دور دراز سے ان منسلک سسٹمز میں مداخلت کر کے انہوں نے اندرونی درجہ حرارت کو انتہائی سطح تک بڑھا دیا، جس کے نتیجے میں آگ لگ گئی اور بڑے پیمانے پر خوراک خراب ہو گئی، اور سینکڑوں مقامات پر شیلف خالی کرنا پڑے۔
یہ واقعہ کیوں اہم ہے
عام قارئین کے لیے یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید ریٹیل اور سپلائی چین کا نظام دور دراز کی ڈیجیٹل مداخلت کے سامنے کتنا غیر محفوظ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ اس امر کا مظہر ہے کہ کس طرح سائبر خطرات براہ راست غذائی تحفظ اور روزمرہ کی تجارت کو متاثر کر سکتے ہیں۔

