ریاض انٹرنیشنل ائیرپورٹ اس وقت ماتم کدہ بن گیا جب حوثی حملے نے ایک پرامن مسافر مرکز کو تباہی کے منظر میں بدل دیا، جس کے نتیجے میں ایک دہائی سے زائد عرصے میں مملکت کا یہ سب سے خونی واقعہ بن گیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ہفتے کے روز پیش آنے والے اس واقعے میں جاں بحق ہونے والوں میں چار سعودی شہری، بنگلہ دیش کے دو افراد، جبکہ امریکہ، اردن، فلسطین، سوڈان، شام اور مصر کا ایک ایک شہری شامل ہے، جس کی تصدیق سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کی ہے۔
اس حملے کے بعد دنیا بھر سے شدید سفارتی ردعمل سامنے آیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کو انتہائی خوفناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جلد ہی سعودی عرب کے عمائدین اور ولی عہد محمد بن سلمان سے بات کریں گے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کی انتظامیہ اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا امریکہ کو حوثیوں کے خلاف سعودی فوجی کارروائیوں میں شامل ہونا چاہیے، اور اس حوالے سے فیصلہ جلد کیا جائے گا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے الجزیرہ کو تصدیق کی کہ جاں بحق ہونے والوں میں ایک امریکی شہری بھی شامل ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں مارکو روبیو نے ان حملوں کو قابلِ مذمت قرار دیا اور کہا کہ امریکہ سعودی عرب اور اس کے عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
عالمی اداروں اور علاقائی حکومتوں نے بھی ان جذبات کی بھرپور تائید کی ہے۔ یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ نے الجزیرہ کے توسط سے کہا کہ سویلین ائیرپورٹس پر حملے خطرناک کشیدگی ہیں جو علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور امن کی کوششوں کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ مصر، قطر اور فلسطینی وزارتِ خارجہ نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی اور علاقائی استحکام کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیا، اور سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق، ریاض انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ہونے والا یہ حملہ اس ہفتے کا تیسرا ایسا واقعہ ہے اور تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ حوثیوں کی طرف سے متوقع جوابی کارروائی تھی۔ وسیع تر تنازع میں حوثی یمن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حامی افواج کے خلاف برسرپیکر ہیں۔ یمنی حکومت کی زمینی مہم کی حمایت کے لیے سعودی عرب اس ایران حمایت یافتہ گروپ کے خلاف فضائی مہم کی قیادت کر رہا ہے۔
اہمیت کیوں رکھتی ہے
پاکستان اور وسیع تر خطے کے قارئین کے لیے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی علاقائی استحکام، عالمی سلامتی اور خلیجی ممالک میں مقیم لاکھوں تارکینِ وطن کی سلامتی کے لیے گہرے اثرات رکھتی ہے۔ جیسے جیسے عالمی ادارے یہ تنبیہ کر رہے ہیں کہ اس طرح کا تشدد تنازعات کے دائرے کو گہرا کرتا ہے اور سفارتی حل کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے، مبصرین اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ بیرونی طاقتیں اور علاقائی فریق اس بحران سے کیسے نمٹتے ہیں۔

