ڈیجیٹل دنیا میں خطرات کی رفتار جس تیزی سے بڑھ رہی ہے، اس نے حکومتوں اور ٹیکنالوجی کے بڑے اداروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ پی ایچ پی (PHP) نامی پروگرامنگ لینگویج میں اہم سکیورٹی کمزوریاں دریافت ہونے کے بعد آن لائن انفراسٹرکچر کی حفاظت کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔

بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی آن لائن خدمات میں کسی بھی ممکنہ خطرے کی نشاندہی کے لیے سرگرم عمل ہے۔ پی ایچ پی ایک ایسی بنیادی پروگرامنگ زبان ہے جس پر دنیا کی ایک بہت بڑی تعداد میں ویب سائٹس کھڑی ہیں، جن میں ویکیپیڈیا اور ورڈپریس جیسے مقبول پلیٹ فارمز بھی شامل ہیں۔

بی بی سی نے بتایا کہ معروف ادارے ایمیزون کو بھی کئی بار سائبر حملوں کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ ایمیزون کے سکیورٹی چیف سی جے موسیز نے بتایا کہ کمپنی نے 17 اکتوبر کو ایک نامعلوم انٹرنیٹ ایڈریس کے ذریعے ایک مصنوعی ہنی پاٹ سسٹم پر پی ایچ پی ٹو شیل حملے کی کوشش کا سراغ لگایا۔ اس کے بعد 21 اکتوبر کو بھی حملے ہوئے جن میں مختلف پے لوڈز اور گمنام انفراسٹرکچر کا استعمال کیا گیا، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ ان کارروائیوں میں ایک سے زیادہ عناصر ملوث تھے۔

بی بی سی نیوز کے مطابق ان خامیوں کو سب سے پہلے مصنوعی ذہانت نے دریافت کیا تھا۔ اگرچہ پی ایچ پی فاؤنڈیشن کا ارادہ تھا کہ وہ اس دریافت اور مکمل پیچ کو مہینے کے آخر میں جاری کرے گی، لیکن اس خامی کی تفصیلات سوشل میڈیا پر لیک ہو گئیں۔ سی جے موسیز نے بی بی سی کو بتایا کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کا مطلب یہ ہے کہ کسی خرابی کی تکنیکی تفصیلات سامنے آنے کے بعد اب زیادہ لوگ گھنٹوں یا منٹوں کے اندر کارروائی کر سکتے ہیں۔

پس منظر

بی بی سی نیوز کے مطابق پی ایچ پی انٹرنیٹ پر موجود لاتعداد پلیٹ فارمز، دکانوں، بلاگز اور مواد کے انتظام کے نظام کو چلاتی ہے جو معلومات اکٹھی کر کے انہیں ویب پر ایک قابل فہم شکل میں پیش کرتی ہے۔ برطانیہ کے نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر (این سی ایس سی) سمیت یورپی یونین اور آسٹریلیا کے بین الاقوامی سائبر سکیورٹی اداروں نے پی ایچ پی استعمال کرنے والے تمام اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس خامی کو دور کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق این سی ایس سی نے اپنے بیان میں مشورہ دیا کہ جہاں فوری طور پر اس مسئلے کا حل ممکن نہ ہو، ادارے اپنے سسٹمز کو مکمل طور پر محفوظ ہونے تک آف لائن کرنے پر غور کریں۔ ایمیزون نے نوٹ کیا کہ اس کے سسٹمز کے خلاف ابتدائی حملے خامی کے لیک ہونے کے بعد لیکن انتباہی پابندی اٹھائے جانے سے پہلے ہوئے تھے۔

یہ معاملہ کیوں اہم ہے

آسٹریلوی کونسل آن اے آئی سٹریٹجی کی سی ای او آنا ماریہ عربیہ جیسے بین الاقوامی عہدیداروں کے بیانات کے حوالے سے بی بی سی نیوز کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کس تیزی سے سائبر سکیورٹی کے شعبے کو بدل رہی ہے، اور خطرے کے سامنے آنے کے وقت کو مہینوں سے گھٹا کر محض چند گھنٹوں تک محدود کر رہی ہے۔ عالمی سطح پر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے لیے، بشمول ان سرکاری اور نجی اداروں کے جو ویب پلیٹ فارمز پر انحصار کرتے ہیں، یہ پیش رفت نظام کی فوری اپ ڈیٹ اور سخت حفاظتی پروٹوکولز کی شدید ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔