کیا اسکول جانے والے بچوں کا راستہ اب موت کا راستہ بن گیا ہے؟ دیر البلح کی سڑکوں پر علم کی روشنی تلاش کرنے والا 14 سالہ محمد حماد جب ایک عارضی اسکول سے گھر لوٹ رہا تھا، تو اس کا یہ سفر اس کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، 17 اکتوبر کو اسرائیلی حملے نے آٹھویں جماعت کے اس طالب علم کی زندگی کا چراغ گل کر دیا، جسے اس کے والد ایک بیٹے کے ساتھ ساتھ اپنا دوست بھی کہتے تھے۔ سالوں کی جنگ اور ویرانی کے بعد جب غزہ کے بچوں نے دوبارہ کلاس رومز کا رخ کیا تو انہیں روزانہ کی اس راہداری میں بمباری اور سنائیپر فائرنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اس حملے میں محمد کا 10 سالہ بھائی عبداللہ تو بچ گیا، لیکن اس دلخراش واقعے نے اسے اکیلے اسکول جانے سے شدید خوفزدہ کر دیا ہے۔ دیر البلح کے ایک خیمے میں بیٹھے 44 سالہ والد ریاض حماد کا کہنا ہے کہ زندگی کا قدرتی نظام الٹ چکا ہے جہاں اب والدین کو اپنے بچوں کو دفنانا پڑ رہا ہے۔
الجزیرہ نے بتایا کہ غزہ میں تعلیمی سال کا آغاز 19 ستمبر کو ہوا تھا جو اسرائیل کی طویل جنگ کی وجہ سے تقریبا 3 سال تک معطل رہا۔ گزشتہ اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود، الجزیرہ نے علاقے کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس کے بعد سے اب تک کم از کم 1,574 فلسطینی شہید اور 5,687 زخمی ہو چکے ہیں۔
الجزیرہ کی جانب سے درج کیے گئے دیگر واقعات میں 18 سے 24 اکتوبر کے درمیان 6 سے 16 سال کی عمر کے 10 بچوں اور ایک استاد کی شہادت شامل ہے۔ اس کے علاوہ، وزارت تعلیم کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 21 اکتوبر کو جبالیہ کے مریدیا اسکول میں صبح کی اسمبلی کے دوران دو بچیاں اور پانچ دیگر طلباء زخمی ہو گئے۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق، بچوں کی عارضی کلاسوں اور خیموں میں واپسی نے طویل تنازعے کے بعد خاندانوں کو معمول کی زندگی بحال کرنے کی ایک امید دی تھی۔ تاہم، گزشتہ اکتوبر کے جنگ بندی معاہدے کے باوجود فضائی حملے اور فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ 19 ستمبر کو کلاسوں کی بحالی نے برسوں بعد باضابطہ طور پر تعلیم کی واپسی کی راہ ہموار کی تھی، لیکن تباہ حال گلیوں سے گزرنے والے طلباء کے لیے یہ سفر اب بھی انتہائی غیر محفوظ ہے۔
اس کی اہمیت کیا ہے
عام قاری کے لیے، تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے بچوں کو نشانہ بنائے جانے کی یہ اطلاعات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ طویل جنگوں کا کمسن نسل پر کتنا گہرا انسانی نقصان ہوتا ہے۔ بچوں کو کھونے والے والدین کا دکھ ہر سرحد سے بالاتر ہے، جو ہر جگہ کے معاشروں کو یاد دلاتا ہے کہ جنگ کے دنوں میں تحفظ اور عام زندگی کتنی نازک ہو جاتی ہے۔

