جب لیموژ کے تاریخی شہر میں انیسویں صدی کے جلائے گئے ٹاؤن ہال کے کھنڈرات سے دھواں چھٹا، تو فرانس جدید تاریخ کے بدترین ہنگاموں کے اثرات سے دوچار تھا۔ بی بی سی اور اے ایف پی کی رپورٹس کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے پیرس میں ایلیس پیلس میں ایک ہنگامی اجلاس کی صدارت کی اور قوم سے خطاب کرتے ہوئے امن اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کی، کیونکہ زندگی کی بڑھتی ہوئی لاگت کے خلاف پرامن مظاہرے شدید فسادات اور لوٹ مار میں تبدیل ہو گئے تھے۔
بی بی سی کے مطابق، فرانس بھر میں تقریباً 550,000 مظاہرین نے ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی اور اسکولوں سمیت عوامی خدمات کی ابتر صورتحال کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔ تاہم، بی بی سی نے بتایا کہ پیرس، مارسیلی، لل اور دیگر شہروں میں کالے کپڑے پہنے اور نقاب پوش فسادیوں کے گروہ بھی سامنے آئے، جنہوں نے گاڑیوں اور عمارتوں کو نذر آتش کیا۔ اے ایف پی کے مطابق اتوار کے روز پیرس میں سینکڑوں افراد پر آنسو گیس اور اسٹن گرنیڈ پھینکے گئے جبکہ پولیس پر پتھر اور بوتلیں برسائی گئیں۔
فرانس کی وزارتِ داخلہ کے حوالے سے بی بی سی نے بتایا ہے کہ پولیس نے اس بدنظمی کے سلسلے میں تقریباً 2,400 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ صدر میکرون نے ایلیس پیلس سے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ جائز مظاہرین اور "ان لوگوں کے درمیان جو توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کرتے ہیں" واضح فرق ہونا چاہیے، اور انہوں نے مزید کہا کہ "کسی بھی چیز سے کھلی غنڈہ گردی کی justifyContent نہیں ہوتی"۔
پس منظر
یہ بدامنی معاشی دباؤ، خاص طور پر ایندھن کی قیمتوں اور مہنگائی کے خلاف احتجاج کے بعد پھوٹی تھی۔ احتجاج دیکھتے ہی دیکھتے پیرس، مارسیلی اور لیون سمیت بڑے شہری مرکزوں میں پرتشدد جھڑپوں میں تبدیل ہو گیا۔ لیموژ میں ہفتے کے روز آگ لگنے سے انیسویں صدی کا ایک شاندار سٹی ہال شدید متاثر ہوا جس کی وجہ سے اس کی چھت اور گھڑی والا مینار منہدم ہو گیا۔ مقامی رہائشیوں نے صدمے کا اظہار کیا، جن میں سے ایک مقامی شخص اینیس نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کے خلاف غصے میں تاریخی ورثے کی عمارتوں کو نقصان پہنچانا خود غرضی ہے اور اس سے ہر ایک کا نقصان ہوتا ہے۔ اتوار کی صبح دکاندار سڑکوں سے شیشے کے ٹکڑے اور ملبہ صاف کرتے نظر آئے جبکہ صفائی کرنے والے ٹرک سڑکوں کی صفائی میں مصروف تھے۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
پاکستان اور دنیا بھر کے مبصرین کے لیے، مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور معاشی مشکلات سے پیدا ہونے والی خانہ جنگی اور بدامنی یہ ظاہر کرتی ہے کہ حکومتوں کو عوامی شکایات اور عوامی انفراسٹرکچر کے تحفظ کے درمیان کتنا نازک توازن رکھنا پڑتا ہے۔ فرانس کی صورتحال یہ واضح کرتی ہے کہ معاشی دباؤ کس طرح شہری سیکیورٹی اور شہری اداروں کی لچک کا امتحان لے سکتا ہے، جو کہ مہنگائی کے عالمی بحرانوں سے درپیش عالمگیر چیلنجوں کی ایک واضح یاد دہانی ہے۔

