فرانس کے مختلف شہروں میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کی جو تصاویر اور ویڈیوز دنیا بھر میں پہنچی ہیں، ان میں ٹوٹی ہوئی دکانداروں کی کھڑکیاں اور بھڑکتی ہوئی آگ نمایاں نظر آتی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت اصل مسائل پر پردہ ڈالنے کے لیے 'فسادات' کے بیانیے کو ڈھال بنا رہی ہے تاکہ طلبہ کے مطالبات سے بچا جا سکے۔ اگرچہ چند موقع پرست عناصر نے اس صورتحال کا ناجائز فائدہ بھی اٹھایا ہے، لیکن اصل میں یہ بے چینی سالوں سے بگڑتے ہوئے حالات اور عوام کے اندر جمع ہونے والے غصے کا نتیجہ ہے۔

الجزیرہ کے مطابق، فرانسیسی حکومت نے ان پرتشدد واقعات کو اپنے سخت سکیورٹی اقدامات کی توجیہ کے طور پر استعمال کیا ہے، جس سے اقتدار میں بیٹھے افراد کو قانون و نظم کے محافظ کے طور پر سامنے آنے کا موقع ملا ہے۔ تاہم، رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ان چند پرتشدد واقعات کی وجہ سے طلبہ کی اتنی بڑی تحریک کو غیر موثر قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی پولیس کے وحشیانہ تشدد کی کوئی توجیه بنتی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ان مظاہروں کے دوران پولیس کے ہتھیاروں سے کئی کم عمر مظاہرین شدید زخمی ہوئے ہیں۔ چودہ سالہ ایڈن نامی نوجوان کے جبڑے کی ہڈی ٹوٹ گئی اور آنسو گیس کے گولے کی زد میں آ کر اس کے دانت ٹوٹ گئے، سولہ سالہ مایل نامی طالبعلم کی ایک آنکھ کی بینائی مبینہ طور پر ربڑ کی گولی لگنے سے چلی گئی، اور پندرہ سالہ ایوان کا ایک ہاتھ اسٹن گرینیپاولیدیس پھٹنے سے اڑ گیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ستمبر میں شروع ہونے والے ان احتجاجی مظاہروں کے بعد سے 14 اکتوبر تک مجموعی طور پر 7,950 افراد کو پولیس نے حراست میں لیا، جن میں 85 فیصد نابالغ تھے۔ اس کے علاوہ 17 اکتوبر کے مظاہروں کے بعد مزید 2,700 افراد کو حراست میں لیا گیا، جبکہ پولیس نے بعد میں ایک ہزار مزید گرفتاریاں کیں۔

پس منظر

الجزیرہ کے مطابق یہ بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہرے فرانس بھر میں سالوں سے بڑھتی ہوئی غربت اور محرومی کی عکاسی کرتے ہیں۔ غربت کی شرح 1990 کی دہائی کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جہاں 98 لاکھ افراد سرکاری خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ دریں اثنا، آکسفام کے اعداد و شمار جو الجزیرہ نے نقل کیے ہیں، بتاتے ہیں کہ فرانس کے 53 ارب پتی افراد اتنی دولت کے مالک ہیں جتنی کہ فرانسیسی آبادی کے لگ بھگ آدھے حصے کے پاس ہے۔ معاشی حالات کے اس بگاڑ نے فرانس کے تعلیمی نظام کو بھی شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں مائوٹ کے علاقے اکوا میں سیتے دو نورد سیکنڈری اسکول کی بندش جیسے اقدامات سامنے آئے، جو 31 اگست کو شروع ہوئے تھے۔

اس صورتحال کی اہمیت

دنیا بھر کے مشاہدین اور قارئین کے لیے بڑے پیمانے پر ہونے والی یہ سول بے چینی اور سماجی و معاشی خلیج صنعتی ممالک کو درپیش چیلنجز کا ایک واضح منظر پیش کرتی ہے۔ ریاستی سکیورٹی کے ردعمل اور عدم مساوات پر عوامی شکایات کے درمیان یہ کشمکش جدید معاشروں میں حکمرانی، نوجوانوں کی بیداری اور قومی دولت کی تقسیم کے پیچیدہ مسائل کو اجاگر کرتی ہے۔