پیرس کی ایک درختوں سے گھری سڑک پر شیشے کے کرچیوں کے درمیان کھڑی الیزبتھ کی آنکھیں نم تھیں، اور ان کے الفاظ میں ویک اینڈ پر ہونے والی تباہی کا شدید صدمہ جھلک رہا تھا۔ بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فرانس کا یہ چہرہ نہیں ہے، اور میڈیا کو صرف تشدد پر توجہ نہیں دینی چاہیے کیونکہ یہ اکثریت کی رائے نہیں۔

بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، فرانس اس بات پر گہرے اختلاف کا شکار ہے کہ حالیہ ہنگاموں کا ذمہ دار کس کو ٹھہرایا جائے اور اس سے کیا سبق سیکھا جائے۔ اگرچہ لوٹ مار کا بیشتر حصہ موقع پرستی کا نتیجہ معلوم ہوتا تھا، لیکن تشدد کا یہ سلسلہ پہلے سے طے شدہ محسوس ہوتا تھا۔ فرانسیسی وزیرِ اعظم نے انتہائی بائیں بازو کے گروہوں کو اس تشدد کی منصوبہ بندی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، جبکہ نیشنل اسمبلی کی صدر یا ایل براون پیویٹ نے اس بارے میں ایک پارلیمانی انکوائری کی تجویز دی ہے کہ ان ہنگاموں کو کس طرح منظم کیا گیا تھا۔

بی بی سی کے مطابق، فرانسیسی انٹیلی جنس نے اس ماہ کے شروع میں حکومتی حلقوں کو طلبہ کے احتجاج میں بائیں بازو کے انارکیسٹ گروہوں کے ملوث ہونے کے بارے میں بریفنگ دی تھی، اور بہت سی عمارتوں پر دائرے کے اندر اے کا نشان بھی سپرے سے بنایا گیا تھا۔ مزید برآں، لی فگارو اخبار نے 29 ستمبر کی ایک انٹیلی جنس رپورٹ شائع کی جس میں طلبہ یونینوں اور انتہا پسند بائیں بازو کی سیاسی تحریکوں کی طرف سے طلبہ کے مظاہروں کی مبینہ گھٹیا چالوں اور سازشوں کی تفصیلات دی گئی تھیں، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ انتہا پسند بائیں بازو کی سیاسی تحریک 'لا فرانس انسومیس' نے 2027 کے صدارتی انتخابات سے پہلے انتخابی حکمت عملی کے طور پر تشدد کا سہارا لیا۔

فرانسیسی میڈیا نے ایسی فوٹیج بھی نشر کی جن میں سیاہ لباس پہنے اور چہرے چھپائے نوجوانوں کے گروہوں کو بڑے ہتھوڑیوں یا چھروں سے پولیس کی گاڑیوں پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ دریں اثنا، بڑے پیمانے پر لوٹ مار کی زد میں 3,000 سے زائد دکانیں اور کاروباری مراکز آئے، اور کئی نوجوانوں نے چوری شدہ برانڈڈ جوتے آن لائن فروخت کرنے کی فوری کوشش کی، جس پر آن لائن سیلز پلیٹ فارمز نے اعلان کیا ہے کہ وہ فرانسیسی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔

پس منظر

یہ بدامنی فرانس میں ہفتوں تک جاری رہنے والے طلبہ مظاہروں کے بعد سامنے آئی ہے۔ بی بی سی نیوز کے مطابق، فرانسیسی انٹیلی جنس رپورٹس اور میڈیا کی کوریج میں طلبہ کے احتجاج سے لے کر بڑے پیمانے پر املاک کی تباہی، تاریخی عمارتوں کو آگ لگانے اور ہزاروں تجارتی اداروں کی لوٹ مار تک کے واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

اس کی اہمیت کیا ہے

بین الاقوامی حالات پر نظر رکھنے والے مبصرین اور عام قارئین کے لیے، یورپی دارالحکومتوں کے یہ واقعات عوامی احتجاج، انتہا پسند سیاسی تحاریک اور سول نافرمانی کے دوران موقع پرستانہ جرائم کے درمیان پیچیدہ کشمکش کو ظاہر کرتے ہیں۔ حکام کو عوامی سلامتی، انٹیلی جنس اکٹھا کرنے اور ڈیجیٹل جوابدہی میں توازن قائم کرنے کے لیے جو چیلنجز درپیش ہیں، وہ دنیا بھر میں گورننس اور امن و امان کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔