بین الاقوامی پانیوں میں بے یار و مددگار پھنسے ہوئے 40 ایرانی ملاحوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے بعد بحفاظت ان کے وطن واپس پہنچا دیا گیا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، سری لنکا کی وزارتِ خارجہ نے ملک کے جنوب مشرقی ساحل کے قریب سے ان ملاحوں کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائی کی نگرانی کی، جو کہ ایک ایمرجنسی کال کے بعد عمل میں آئی۔
وزارت کے ترجمان تشارہ روڈریگو نے بی بی سی سنہلا کو بتایا کہ یہ ریسکیو آپریشن کولمبو میں ایرانی سفارت خانے کے تعاون سے تیار کیا گیا تھا، جس کے تحت ملاحوں کو پہلے علاج کے لیے کولمبو لایا گیا اور پھر ہوائی جہاز کے ذریعے ایران روانہ کر دیا گیا۔ بی بی سی نیوز کے مطابق، امریکی بحری ناکہ بندی کی وجہ سے ایرانی جہازوں کو سمندر میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور متعدد کشتیاں منجدھار میں پھنسی ہوئی ہیں۔
سری لنکن حکام نے اس وسیع تر تنازع میں اپنی غیر جانبدارانہ پوزیشن کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ امداد خالصتاً بین الاقوامی قوانین اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کے تحت فراہم کی گئی۔ روڈریگو نے بی بی سی کو بتایا کہ مصیبت میں پھنسے لوگوں کی پکار پر لبیک کہنا بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ روایت ہے اور اس کا مقصد جنگی جہازوں کی مدد کرنا ہرگز نہیں۔
پس منظر
بی بی سی نیوز کے مطابق، یہ تنازع فروری میں اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل، امریکی اڈوں اور خلیجی اتحادیوں کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز عملی طور پر بند ہو گئی۔ بی بی سی سنہلا کی ایک سابقہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سری لنکا کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں 21 ایرانی جہاز موجود تھے۔ سری لنکا نے اس معاملے میں غیر جانبدارانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے امریکہ اور ایران دونوں کی طرف سے فوجی رسائی کی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے اور فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بات چیت کا راستہ اختیار کریں۔ صدر انورا کمارا دیساناے کے مطابق، مارچ میں سری لنکن حکام نے ڈوبنے والے ایرانی جہاز آئرس دینا سے ملنے والی مدد کی پکار پر فوری ردعمل ظاہر کیا، زخمیوں کا علاج کیا اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دوسرے بحری جہاز کو لنگر انداز ہونے کی اجازت دی۔
اس واقعے کی اہمیت کیا ہے؟
پاکستان اور وسیع تر خطے کے قارئین کے لیے یہ واقعہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ سمندری راستوں کی بندش اور فوجی کشیدگی کا خمیازہ عام ملاحوں اور سویلین سپلائی لائنوں کو کس قدر بھاری انسانی قیمت کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔ جب آبنائے ہرمز جیسے تجارتی راستے بند ہوں اور علاقائی کشیدگی برقرار رہے، تو غیر جانبدار ممالک کے لیے سمندر میں پھنسے ہوئے لوگوں کی مدد کرنا ایک بڑا قانونی اور اخلاقی فریضہ بن جاتا ہے۔

