پیٹھ کی ہڈی میں فریکچر کی وجہ سے طویل عرصے تک کورٹ سے باہر رہنے والی برطانوی ٹینس کھلاڑی سونے کارٹل نے اپنی بہترین فارم کا مظاہرہ کرتے ہوئے Wuhan اوپن کے اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ بی بی سی اسپورٹ کی رپورٹ کے مطابق 24 سالہ کھلاڑی نے ایک گھنٹہ اور 31 منٹ تک جاری رہنے والے مقابلے میں یوکرین کی انیجلینا کالینینا کو 7-5 اور 6-3 سے ہرا دیا۔
بی بی سی اسپورٹ کے مطابق دنیا کی 48 ویں نمبر کی کھلاڑی کے خلاف میچ میں کارٹل نے 4 ایس اسکور کیے اور جب انہوں نے اپنی پہلی سروس کا درست استعمال کیا تو 30 میں سے 23 پوائنٹس اپنے نام کیے۔ کالینینا کی جانب سے دو میچ پوائنٹس بچائے جانے کے بعد کارٹل نے تیسری کوشش میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے آخری 32 کھلاڑیوں میں اپنی جگہ پکی کی۔
پس منظر
بی بی سی اسپورٹ نے بتایا ہے کہ کمر کی چوٹ کے بعد عالمی رینکنگ میں سونے کارٹل کی پوزیشن 170 ویں نمبر پر آ گئی ہے۔ Wuhan میں شرکت سے پہلے انہوں نے رواں ماہ کے شروع میں بیجنگ اوپن کے تیسرے مرحلے تک رسائی حاصل کی تھی جو چوٹ کے بعد ان کا پہلا WTA ٹورنامنٹ تھا۔ بی بی سی اسپورٹ کی تفصیلات کے مطابق ان کی واپسی کا آغاز گزشتہ ماہ برطانوی ٹیم کی طرف سے بلی جین کنگ کپ سے ہوا تھا جہاں وہ حریف کھلاڑی کے خلاف قریبی مقابلے میں ہار گئی تھیں۔ اس کے بعد انہوں نے بیجنگ میں اسپین اور چین کی کھلاڑیوں کے خلاف فتوحات سمیٹیں، البتہ انہیں ایک میچ میں شکست کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔
ٹورنامنٹ کی دیگر خبروں کے حوالے سے بی بی سی اسپورٹ نے بتایا کہ چین اوپن جیتنے والی پہلی چینی کھلاڑی ژینگ قنوین نے تھکن کے باعث اپنے ہوم ٹورنامنٹ سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے۔ بی بی سی اسپورٹ کے مطابق ژینگ کا کہنا تھا کہ پچھلے سال کہنی کی سرجری اور فٹنس کے مسائل کے بعد مسلسل میچز کھیلنے کی وجہ سے ان کا جسم شدید تھکن کا شکار ہو چکا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
بین الاقوامی ٹینس کے شوقین افراد کے لیے سنگین چوٹوں کے بعد میدان میں واپسی کھلاڑیوں کی ذہنی اور جسمانی پختگی کی بہترین مثال ہوتی ہے۔ اگرچہ پاکستان میں کھیل کے شائقین بین الاقوامی مقابلوں کو ترغیب کے لیے دیکھتے ہیں، لیکن طویل عرصے تک باہر رہنے کے بعد دوبارہ میدان میں اترنے والے کھلاڑی یہ ثابت کرتے ہیں کہ اپنی پوزیشن بحال کرنے کے لیے کتنی سخت محنت درکار ہوتی ہے۔
آگے کیا ہوگا
بی بی سی اسپورٹ کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی 170 ویں نمبر کی کھلاڑی کارٹل کا اگلا مقابلہ سوئٹزرلینڈ کی نویں نمبر کی سیڈ بیلندا بینچک کے ساتھ ہوگا۔

