مانچسٹر سینٹرل میں ایک یادگار اور سنسنی خیز مقابلے کے دوران فالن شرلاک نے موجودہ عالمی چیمپئن لوک لٹلر کو ہرا کر 5 لاکھ 1 ہزار پاؤنڈز کا بھاری انعام جیت لیا۔ بی بی سی سپورٹس کے مطابق 32 سالہ فالن شرلاک نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 180 کا زیادہ سے زیادہ سکور بنایا اور ڈبل 20 حاصل کر کے یہ تاریخی فتح اپنے نام کی، اس موقع پر تماشائیوں کی بڑی تعداد رنگ برنگے لباس میں اسٹیڈیم میں موجود تھی۔

نیٹ فلکس پر دنیا بھر میں براہ راست نشر ہونے والے 'بیٹ لوک لٹلر' نامی اس ایونٹ میں شوقیہ کھلاڑیوں کا مقابلہ دنیا کے نمبر ون کھلاڑی سے کرایا گیا۔ بی بی سی سپورٹس کی رپورٹ کے مطابق فالن شرلاک کو اس اسٹیڈیم تک پہنچنے کے لیے عوامی ووٹنگ کا مرحلہ عبور کرنا پڑا تھا، جہاں انہوں نے جرمنی کے جاروڈ بیکن کے خلاف 75 فیصد ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔ لوک لٹلر کی جانب سے 14 پہلے والے شوقیہ کھلاڑیوں کو شکست دینے کے بعد، فالن شرلاک نے بل پر نشانہ لگا کر پہلے باری حاصل کی اور بالآخر 15 ڈارٹس میں میچ اپنے نام کر لیا، جیسا کہ بی بی سی سپورٹس نے بیان کیا۔

بی بی سی سپورٹس سے بات کرتے ہوئے فالن شرلاک کا کہنا تھا کہ یہ میرے لیے ایک ناقابل یقین لمحہ ہے اور میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی کہ اس کا کیا مطلب ہے، خاص طور پر جب میرا بیٹا روری بھی یہاں موجود ہے اور یہ اس کا پہلا موقع ہے کہ اس نے مجھے اس طرح جیتے ہوئے دیکھا ہے۔ دوسری جانب لوک لٹلر نے بھی ان کی تعریف کرتے ہوئے بی بی سی سپورٹس کو بتایا کہ یہ شاندار کارکردگی تھی، ایک کھلاڑی کو یہی کرنا تھا کہ وہ بل جیتے اور 15 ڈارٹس میں گیم ختم کرے اور انہوں نے بالکل ایسا ہی کیا جو کہ عالمی معیار کا کھیل تھا۔

پس منظر

بی بی سی سپورٹس کے مطابق یہ ایونٹ ایسے کھلاڑیوں کے لیے کھلا تھا جو پی ڈی سی ٹور کے رکن نہیں تھے۔ اس مقابلے کے لیے مجموعی طور پر 25 ہزار امیدواروں نے درخواستیں دی تھیں۔ ابتدائی طور پر کامیاب ہونے والے امیدواروں کو 24 ڈارٹس یا اس سے کم میں 501 سے نیچے آنا پڑا، جس کے بعد انہیں 3 رکنی انٹرویو پینل کا سامنا کرنا پڑا جس میں 16 بار کے عالمی چیمپئن فل ٹیلر، پی ڈی سی کے صدر بیری ہرن، اور ٹیلی ویژن کی مبصر لورا ٹرنر شامل تھیں، اور ان میں سے 20 کھلاڑیوں کو مقابلے میں حصہ لینے کے لیے منتخب کیا گیا۔

بی بی سی سپورٹس کے مطابق فالن شرلاک نے اس سے پہلے دسمبر 2019 میں پی ڈی سی ورلڈ چیمپئن شپ کے دوران اس وقت سرخیوں میں جگہ بنائی تھی جب وہ آخری 32 میں جگہ بنانے کے سفر میں کسی مرد حریف کو شکست دینے والی پہلی خاتون کھلاڑی بنی تھیں، اور اس پر انہوں نے 25 ہزار پاؤنڈز کے ساتھ 'دی کوئین آف دی پیلس' کا لقب بھی حاصل کیا تھا۔

اس کی اہمیت

دنیا بھر کے کھیلوں کے شوقین افراد کے لیے یہ ایونٹ براڈکاسٹ کیے جانے والے مسابقتی کھیلوں کی بڑھتی ہوئی رسائی اور بین الاقوامی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر غیر ٹور کے شرکاء کی بڑھتی ہوئی پذیرائی کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح عوامی ووٹنگ کے نظام کے ذریعے ڈیجیٹل فین کی شمولیت براہ راست بڑے کھیلوں کے مقابلوں کی تشکیل کر سکتی ہے۔