بی بی سی کی ایک عدالتی دستاویز کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق امریکی وفاقی استغاثہ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومے کے خلاف قومی دفاعی معلومات لیک کرنے کے الزام میں کارروائی کے لیے قدم اٹھایا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پرانے ناقد سمجھے جانے والے جیمز کومے کے خلاف محکمہ انصاف کی جانب سے فوجداری الزامات عائد کرنے کا یہ تیسرا موقع ہے۔
صرف 3 صفحات پر مشتمل اس عدالتی دستاویز میں جیمز کومے کے خلاف عائد کردہ دو الزامات کی زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ تاہم بی بی سی کی طرف سے بیان کردہ دیگر عدالتی کاغذات کے مطابق جیمز کومے کے وکلاء کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ اکتوبر 2016 کا ہے، جب وہ ایف بی آئی کی قیادت کر رہے تھے اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے نیویارک ٹائمز کو مبینہ طور پر خفیہ معلومات فراہم کی تھیں۔
اس پیشرفت کے جواب میں جیمز کومے نے سب اسٹیک پر جاری کردہ ایک ویڈیو میں تمام الزامات کی تردید کی اور محکمہ انصاف کے اس اقدام کو انتہائی ہولناک غلط استعمال قرار دیا۔ بی بی سی کے مطابق انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ بے گناہ ہیں اور حکام سے خوفزدہ نہیں ہیں۔
پس منظر
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ الزامات واشنگٹن ڈی سی میں ایک فوجداری دستاویز کے ذریعے دائر کیے گئے ہیں، جو عام فرد جرم سے مختلف ہوتی ہے کیونکہ اس میں گرینڈ جیوری سے رجوع نہیں کیا جاتا۔ جیمز کومے کے وکیل پیٹرک فٹز جیرالڈ نے بتایا کہ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں استغاثہ کی دو الگ الگ ٹیموں نے 2016 کے مبینہ واقعے کی تحقیقات کی تھیں اور اس نتیجے پر پہنچی تھیں کہ کوئی الزام عائد نہیں کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب، سابق وفاقی پراسیکیوٹر گلین کرشنر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ مقدمہ ممکنہ طور پر 10 سال کی قانونی مدت کی حد سے تجاوز کر چکا ہے اور انہوں نے اس کارروائی کو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انتقامی کوشش قرار دیا۔
واضح رہے کہ جیمز کومے کو ٹرمپ نے اپنے پہلے دور میں اس وقت برطرف کر دیا تھا جب انہوں نے 2016 کے امریکی صدارتی انتخاب میں مبینہ روسی مداخلت کی تحقیقات شروع کی تھیں۔ اس کے بعد سے ٹرمپ مسلسل ان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ ستمبر 2025 میں ایک وفاقی گرینڈ جیوری نے کانگریس سے جھوٹ بولنے اور کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں جیمز کومے پر فرد جرم عائد کی تھی، اگرچہ وہ مقدمہ نومبر میں خارج کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اپریل 2026 میں جیمز کومے نے اس الزام پر حکام کے سامنے خود سپردگی کی تھی کہ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی ایک تصویر سے ٹرمپ کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوا۔
اہمیت کیوں ہے؟
بین الاقوامی مبصرین اور عالمی امور میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے یہ قانونی کارروائی اس کشمکش کو ظاہر کرتی ہے جو امریکی عدائلی نظام میں اہم سیاسی شخصیات اور اعلیٰ ایگزیکٹو قیادت کے درمیان جاری ہے۔ اس معاملے سے وفاقی استغاثہ کے اداروں کی آزادی اور ہائی پروفائل قانونی لڑائیوں میں مقدمات کی مدتِ حدود سے متعلق اہم سوالات اٹھتے ہیں۔

