کیا یورپ اس بار سردیوں کا بوجھ اٹھا پائے گا؟ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے خبردار کیا ہے کہ براعظم یورپ گیس کے تاریخی طور پر کم ترین ذخائر کے ساتھ موسم سرما میں داخل ہو رہا ہے اور مزید کسی بھی سپلائی جھٹکے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق برلن میں گفتگو کرتے ہوئے فاتح بیرول نے بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر جنگ کے باعث توانائی کی سپلائی لائنیں شدید متاثر ہوئی ہیں، جس نے یورپی ممالک کو انتہائی غیر محفوظ حالت میں لا کھڑا کیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے پاس قدرتی گیس کے ذخائر صرف 72 فیصد بھرے ہیں، جو کہ معمول کے 90 فیصد کے مقابلے میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ رپورٹ میں ماہرین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ گیس کی یہ کمی اتنی ہے جتنی 10 سے 12 ملین گھروں کو روشن کرنے کے لیے درکار ہوتی ہے، اور اسی کمی کے پیش نظر یورپی یونین کے وزرائے توانائی گھروں اور کاروباروں سے گیس کی کھپت میں کمی کی اپیل پر غور کر رہے ہیں۔

پس منظر

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق تنازع شروع ہونے سے پہلے یورپ کی تقریباً ایک دسوہی مائع قدرتی گیس آب و تنگہ ہرمز سے ہو کر گزرتی تھی۔ تاہم، ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر جاری حملوں کی وجہ سے درآمدات میں بڑی گراوٹ آ چکی ہے۔ فاتح بیرول نے بتایا کہ یورپی گیس کے ذخائر ان ایشیایی ممالک کے ساتھ مسابقت کر رہے ہیں جو مشرق وسطیٰ پر شدید انحصار کرتے ہیں، جبکہ باب المندب کے راستے میں دیگر رکاوٹوں نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

پاکستان اور وسیع تر عالمی برادری کے قارئین کے لیے، یورپی توانائی کی طلب میں تبدیلیاں اور مائع قدرتی گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اس بات کو اجاگر کرتی ہیں کہ جغرافیائی سیاسی تنازعات کے دوران بین الاقوامی توانائی کی منڈییں اور سپلائی چینز کس حد تک ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔

آگے کیا ہوگا

خنیبر رپوٹس کے مطابق، یورپی یونین کے وزرائے توانائی اس قلت کے جواب میں فی الحال اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا گھرانوں اور کاروباروں سے اپنی توانائی کی کھپت میں کٹوتی کرنے کا کہا جائے۔