منگل کی سہ پہر کا ایک عام سا وقت اس وقت خوف و ہراس کی زد میں آ گیا جب ایک 59 سالہ شخص نے اپنے دونوں ہاتھوں پر چاقو باندھ کر انچیون کی ایک سپر مارکیٹ میں خریداروں پر دھاوا بول دیا۔ بی بی سی نیوز کے مطابق یہ واقعہ کوریا کے بڑے ڈسکاؤنٹ سپر مارکیٹ چین ہوم پلس کے ایک مقامی آؤٹ لیٹ پر پیش آیا جہاں ایسکلیٹر پر سفر کرنے والے افراد کو نشانہ بنایا گیا۔
واقعہ اور گرفتاری
بی بی سی نیوز کی جانب سے انچیون نامڈونگ پولیس اسٹیشن کے حوالے سے بتایا گیا کہ حملے کا یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر 13 بجکر 40 منٹ پر پیش آیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بتایا کہ موقع پر موجود بہادر شہریوں نے کرسیوں کا استعمال کرتے ہوئے حملہ آور کا راستہ روکا اور اسے قابو میں لے لیا، جس کے بعد پولیس اہلکاروں نے اسے حراست میں لے لیا۔
اس حملے میں کل 8 افراد زخمی ہوئے جن میں 6 خواتین اور 2 مرد شامل ہیں، اور تمام کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایک زخمی کو دل کا دورہ پڑا جبکہ دیگر افراد کی پشت اور کندھوں پر زخم آئے۔ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکام نے عمارت کی پہلی منزل پر ایک ایمرجنسی میڈیکل سینٹر قائم کیا۔
مقامی خبر رساں اداروں کے حوالے سے بی بی سی نے بتایا کہ تلاشی کے دوران حملہ آور کے بیگ سے 10 چاقو برآمد ہوئے۔ تفتیش کاروں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ حملے کے وقت ملزم نے ٹانگ پر الیکٹرانک مانیٹرنگ اینکل بریکٹ پہن رکھی تھی۔
پس منظر
بی بی سی نیوز کے مطابق حملہ آور کا پرانا مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے، اسے اس سے قبل سابقہ بیوی پر چاقو سے حملہ کرنے کے جرم میں چار سال قید کی سزا ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ مقامی رپورٹس کے مطابق پولیس نے اسے گزشتہ ماہ ہی ایک اسپتال کے باہر طبی علاج کے معاملے پر احتجاج کے دوران چاقو ساتھ رکھنے کے شبے میں گرفتار کیا تھا۔
یہ واقعہ ایک ایسے ملک میں پیش آیا جو عام طور پر عوامی تحفظ کے بلند معیار کے لیے جانا جاتا ہے۔ بی بی سی نیوز کے ذریعے پیش کردہ شماریات کوریا کے اعداد و شمار کے مطابق، 2024 میں ملک میں فی 1 لاکھ افراد پر قتل کی شرح تقریباً 0.5 ریکارڈ کی گئی، جو عالمی اوسط کا تقریباً دسواں حصہ ہے۔ تاہم، یہ واقعہ 2023 کے دوران پیش آنے والے اچانک پرتشدد حملوں کے سلسلے کا تسلسل معلوم ہوتا ہے جنھوں نے بڑے پیمانے پر خوف پیدا کیا تھا۔ ایسے واقعات کو 'مُدجیما' یا 'وجہ مت پوچھو' کے جرائم کہا جاتا ہے، جن میں ایسے افراد اجنبیوں کو نشانہ بناتے ہیں جن کا متاثرین سے کوئی ذاتی تعلق نہیں ہوتا اور نہ ہی بظاہر کوئی واضح محرک ہوتا ہے۔ اپریل 2025 میں بھی سپر مارکیٹ میں ایسا ہی ایک حملہ ہوا تھا جس میں ساٹھ برس کی ایک خاتون جاں بحق ہو گئی تھی۔
اہمیت
پاکستان سے بین الاقوامی حالات کا مشاہدہ کرنے والے قارئین کے لیے یہ واقعہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ دنیا بھر میں عوامی تحفظ کے چیلنجز اور گھنی آبادی والے شہری علاقوں میں اچانک پرتشدد واقعات کی غیر متوقع نوعیت عالمگیر ہے۔ اگرچہ جنوبی کوریا میں عالمی اوسط کے مقابلے میں قتل کی شرح نمایاں طور پر کم ہے، لیکن 'وجہ مت پوچھو' جیسے حملوں کا رونما ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ شہری حکام کے لیے حفاظتی اقدامات، کمیونٹی کی بیداری اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری کتنی اہم ہے۔

