مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ایک حالیہ اعلان نے سیاسی حلقوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق، انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ اپریل 2030 میں اپنی تیسری مدتِ صدارت مکمل ہونے کے بعد منصب صدارت چھوڑ دیں گے۔ مصری ملٹری اکیڈمی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا عہدہ چھوڑنا ایک طے شدہ امر ہے اور آئین کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائے گی۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اس سے قبل یہ وسیع تاثر پایا جاتا تھا کہ السیسی آئین میں ترمیم کر کے ایک اور مدت یا تاحیات اقتدار میں رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم، ان کے اس تازہ بیان نے مبصرین کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا یہ اعلان چوتھے دور کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے کا حربہ ہے، فوج کی کسی ممکنہ ناپسندیدگی کا پیشگی سدباب ہے، یا پھر مصر میں فوجی حکمرانی کے اگلے مرحلے کا اشارہ ہے۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق، مطلق العنان حکمرانوں کے لیے رضاکارانہ طور پر اقتدار سے الگ ہونا ایک پیچیدہ معاملہ رہا ہے، اور 2030 میں السیسی کے جانے کے بعد مستقبل کی حکومت ان کا محاسبہ بھی کر سکتی ہے۔ الجزیرہ نے یاد دلایا کہ السیسی نے 2013 میں مصر کے پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر محمد مرسی کے خلاف فوجی اقدام کی قیادت کی تھی، جس کے بعد بڑے پیمانے پر خون خرابہ ہوا اور متعدد سیاستدانوں، کارکنوں اور صحافیوں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔
اس کے علاوہ، الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ السیسی کی معاشی پالیسیوں، بدعنوانی اور غیر ضروری منصوبوں پر کڑی تنقید کی جاتی رہی ہے۔ مصر کا قومی قرضہ مجموعی گھریلو پیداوار کا 81 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جہاں سود کی ادایگیاں صحت، تعلیم، تنخواہوں اور سبسڈی پر ہونے والے کُل اخراجات سے بھی بڑھ گئی ہیں۔ 2014 کے بعد سے مصری پاؤنڈ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 80 فیصد سے زائد قدر کھو چکا ہے جبکہ مجموعی مہنگائی 460 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔
مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماضی میں بیانات اور عملی اقدامات میں تضاد دیکھا گیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق، 2013 میں مرسی کی برطرفی کے بعد السیسی نے صدارتی الیکشن نہ لڑنے کا کہا تھا، اور پھر 2017 میں آئین کی دو مدتوں کی پابندی برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کرنے کے باوجود 2019 میں آئینی ترامیم کی قیادت کی۔ دوسری جانب، مادہ مصر کو دیے گئے ایک بیان میں عدالتی ذرائع نے گزشتہ ہفتے سیاسی صورتحال پر روشنی ڈالی تھی۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
بین الاقوامی مبصرین اور عالمی سیاسی حرکیات پر نظر رکھنے والوں کے لیے مشرق وسطیٰ کے اہم ممالک میں قیادت کی منتقلی اور معاشی دباؤ کے یہ معاملات گورننس، آئینی تقدس اور مالیاتی استحکام کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان حقائق کا جائزہ لینا اس بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ کس طرح ملکی پالیسیاں، عوامی قرضے اور آئینی ڈھانچے سیاسی تبدیلیوں کے دوران اثر انداز ہوتے ہیں۔

