کارڈ بورڈ کے روبوٹ بنے مظاہرین نے اوکلینڈ سٹی ہال کے باہر ڈھول کی تھاپ پر ناچتے ہوئے نعرے بازی کی اور ان ڈیجیٹل مراکز کی تعمیر روکنے کا مطالبہ کیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ان مظاہروں سے اس تشویش کا اظہار ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو چلانے والے یہ بڑے مراکز مقامی پاور گرڈز پر بوجھ بن سکتے ہیں اور گھریلو بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق، امریکا بھر میں ان مراکز کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے کیونکہ مقامی آبادی اس کی تیز رفتار پھیلاؤ کے اثرات سے دوچار ہے۔ ایک طرف جہاں بڑی ٹیک کمپنیاں اے آئی ٹولز کے لیے درکار بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے میں مصروف ہیں، وہیں مقامی رہائشیوں اور کارکنوں نے یوٹیلیٹی بلوں میں اضافے اور ماحولیاتی اثرات پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

الجزیرہ کی طرف سے نقل کردہ بیان میں کمیونٹیز فار اے بیٹر انوائرمنٹ کے کارکن کارلوس گٹیریز نے بتایا کہ اوکلینڈ میں بجلی کی قیمتیں اتنی بڑھ چکی ہیں کہ کچھ رہائشی اپنے گھروں کی بجلی کاٹنے پر غور کر رہے ہیں، جبکہ اس کے باوجود شہر ایک ڈیٹا سینٹر کو بجلی فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے۔

پس منظر

الجزیرہ کے مطابق، پیو ریسرچ سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکا بھر میں 3,000 سے زائد ڈیٹا سینٹرز کام کر رہے ہیں جبکہ 1,500 سے زیادہ مزید مراکز زیر تعمیر ہیں۔ اس ردعمل کا سب سے زیادہ اثر کیلیفورنیا کے سان فرانسسکو بے ایریا میں دیکھا گیا ہے، جسے مصنوعی ذہانت کے مرکز کے طور پر پوری دنیا میں جانا جاتا ہے اور جہاں اینتھروپک، اوپن اے آئی اور میٹا جیسی بڑی کمپنیاں موجود ہیں۔ ان ڈیٹا سینٹرز میں جدید کمپیوٹر چپس اور سرورز ہوتے ہیں جو اے آئی کی خدمات کے لیے ضروری ہیں، لیکن انہیں مسلسل بجلی اور کولنگ کے لیے کافی مقدار میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ الجزیرہ نے نوٹ کیا کہ کولنگ ٹیکنالوجی کے باوجود یہ مراکز کافی حد تک گرمی خارج کر سکتے ہیں، جس سے مقامی زمینی درجہ حرارت میں 9 ڈگری سینٹی گریڈ (16 ڈگری فارن ہائیٹ) تک اضافہ ہو جاتا ہے۔

ان ماحولیاتی اور مالی دباؤ کے جواب میں، الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، وسط مدت کے انتخابات سے پہلے کے دو مہینوں میں بے ایریا کے کم از کم سات شہروں — جن میں سان فرانسسکو، رِچمنڈ اور اوکلینڈ شامل ہیں — نے ڈیٹا سینٹر کی تعمیر پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔ مقامی سیاست دانوں نے بھی جاری انتخابی مہم میں اس معاملے کو ایک اہم موضوع کے طور پر استعمال کیا ہے۔

اہمیت کیوں ہے؟

پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے قارئین کے لیے جو عالمی تکنیکی تبدیلیوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں، کیلیفورنیا میں ہونے والی یہ بحث جدید ڈیجیٹل ایجادات کے پیچھے چھپے بھاری وسائل کے اثرات کو واضح کرتی ہے۔ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کا بنیادی ڈھانچہ دنیا بھر میں پھیل رہا ہے، ہر جگہ کی کمیونٹیز کو ایک بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا میں توانائی کی تقسیم، بجلی کی استطاعت اور ماحولیاتی پائیداری کے حوالے سے مشکل فیصلوں کا سامنا ہے۔