سوڈان کے جنوب مغربی خطے دارفور کے ایک مصروف شہری بازار پر ہونے والے فوجی ڈرون حملوں نے ایک بار پھر عام شہریوں کو ملک کی بربریتھ بھری جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ الجزیرہ اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹس کے مطابق اس تباہ کن حملے میں 100 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔

الجزیرہ نے حقوق انسانی کی تنظیم 'ایمرجنسی لائرز' کے حوالے سے بتایا کہ پیر کے روز ہونے والے ان حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ 113 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔ دوسری جانب ایسوسی ایٹڈ پریس نے نیالا کے مقامی گواہوں کے بیانات نقل کرتے ہوئے بتایا کہ مارکیٹ میں وہ عام دکان دار بھی ہلاک ہوئے جو نیم فوجی دستوں کو سامان فروخت کرتے تھے۔

نیالا کا یہ شہر سوڈان کے نیم فوجی دستوں ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کا عملاً دارالحکومت مانا جاتا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے ایک گواہ نے بتایا کہ حملے سے عین قبل سینکڑوں آر ایس ایف کے جنگجو مارکیٹ میں جمع تھے جب رات تقریباً 8 بجے ڈرون گرا، جس کے نتیجے میں درجنوں جنگجوؤں کے علاوہ کھانا بیچنے والی خواتین بھی ماری گئیں۔ ایک اور گواہ کے مطابق اس دھماکے میں تقریباً 14 عام شہری خواتین اور بچے بھی لقمہ اجل بنے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایک امدادی کارکن مبارک بخیت نے بتایا کہ حملے کے بعد بہت سے لوگ اب بھی لاپتہ ہیں اور قریبی گھروں سے لاشیں نکالی جانا باقی ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق فوج کے ساتھ لڑنے والی اسپیشل آپریشنز فورسز کے سرکاری ترجمان محمد دیدان نے فیس بک پر لکھا کہ نیالا کے مغرب میں واقع دومایا کیمپ میں ایک درست اور ہدف پر مبنی فضائی حملے میں 150 سے زیادہ ملیشیا بھرتی ہونے والے افراد مارے گئے۔ تاہم شہر سے محدود معلومات ملنے کی وجہ سے ہلاکتوں کے ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک نے الجزیرہ کے نوٹ کردہ ایک الگ بیان میں ابتدائی طور پر 21 اموات اور 40 سے زائد زخمیوں کی اطلاع دی تھی۔

پس منظر

الجزیرہ کی تفصیلات کے مطابق ریپڈ سپورٹ فورسز اور سوڈانی فوج کے درمیان جاری یہ مسلح کشمکش اب اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے۔ طویل جنگ کے نتیجے میں شدید غربت، خوراک کی شدید قلت اور دنیا کا بدترین نقل مکانی کا بحران جنم لے چکا ہے۔

اہمیت کیوں ہے

پاکستان اور دنیا بھر کے قارئین کے لیے، طویل داخلی تنازعات میں شہری علاقوں کی جنگ اور عام شہریوں کے جانی نقصان کی اطلاعات اس انسانی قیمت کو واضح کرتی ہیں جو جنگ اور سیاسی انتشار کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔ نقل مکانی سے لے کر بمباری کے مسلسل خوف تک، عام خاندانوں کو جن مشکلات کا سامنا ہے وہ مسلح تنازعات کے دوران شہری زندگی کی غیر یقینی صورتحال کا عکاس ہیں۔