جب سمندری طوفان ارناب بھارت کی ریاست آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرایا تو مکینوں کی سانسیں رک گئیں۔ الجزیرہ، اے ایف پی اور روئٹرز کے مطابق اس طاقتور طوفان کی زد میں آ کر ہوائیں 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں، جس سے درخت اکھڑ گئے، شاہراہیں بند ہو گئیں اور بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق طوفان کی آمد سے پہلے آندھرا پردیش اور اوڈیشہ سے کم از کم 1 لاکھ 80 ہزار افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ 28 اکتوبر بروز بدھ کو طوفان کے ساحل عبور کرنے پر پروازیں منسوخ، ٹرینیں معطل اور اسکول بند کر دیے گئے۔ بھارت کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا تھا کہ طوفانی لہریں عام سطح سے ڈیڑھ میٹر تک بلند ہو سکتی ہیں، جس سے نشیبی علاقے خطرے کی زد میں آ گئے۔ کاکیناڈا کے ایک مقامی رہائشی نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الجزیرہ کو بتایا کہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ پانی کس کے گھر میں گھس جائے گا یا کس کا گھر ڈوب جائے گا۔ الجزیرہ نے یہ بھی بتایا کہ حکام کے اندازے کے مطابق طوفان کے راستے میں 1 کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد رہائش پذیر ہیں۔

پس منظر

ذرائع کے مطابق بھارت کے محکمہ موسمیات نے طوفان ارناب کو خشکی کی طرف بڑھنے سے پہلے انتہائی شدید طوفان قرار دیا تھا، جو ان کے پیمانے پر تیسرا بڑا درجہ ہے۔ طوفان کے اثرات بھارت کی سرحدوں سے باہر بھی محسوس کیے گئے۔ روئٹرز نے بتایا کہ پڑوسی ملک نیپال میں حکام نے تین دن کے لیے ٹریکنگ پرمٹس جاری کرنے کا عمل معطل کر دیا، اور سیا خبردار کیا کہ جمعرات سے ہفتے کے دوران شدید بارشوں، برفانی طوفانوں اور تودے گرنے کے خطرات کے پیش نظر بلند مقامات پر جانے سے گریز کریں۔ نیپال اگست میں آنے والے اس گلیشیئر تودے گرنے کے حادثے کے اثرات سے اب تک نمٹ رہا ہے جس میں 1400 سے زائد افراد ہلاک اور کم از کم 5000 لاپتہ ہو گئے تھے۔ دوسری طرف سری لنکا کے محکمہ موسمیات نے بھی طوفانی نظام کے باعث ممکنہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے پیش نظر اسکول بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔

یہ اہم کیوں ہے

جنوبی ایشیا کے قارئین کے لیے یہ موسمی صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ گنجان آباد ساحلی اور پہاڑی علاقے شدید موسمیاتی تبدیلیوں اور خطرات سے کتنے غیر محفوظ ہوتے جا رہے ہیں۔ کروڑوں افراد اس طوفان کی زد میں ہیں جبکہ پڑوسی ممالک کو بھی سیلاب اور تودے گرنے جیسے ثانوی خطرات کا سامنا ہے، جس سے خطے کے بنیادی ڈھانچے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے نظام پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔