پاکستان کے ایک چھوٹے سے شہر سے چلنے والے ایک آن لائن ڈیجیٹل اسٹرور نے سمندر پار ملک کو کروڑوں جعلی ڈاک ٹکٹ فروخت کر ڈالے، جو بالآخر اربوں روپے کے فراڈ میں گرفتاری پر منتج ہوا۔ دی نیوز کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اس مبینہ 35 ارب روپے کے اسکینڈل کے مرکزی ملزم فہیم اکرم کو گرفتار کر لیا ہے۔
جیو نیوز کی جانب سے نقل کیے گئے امریکی عدالت کے ریکارڈ کے مطابق، پنجاب کے ضلع خانیوال کے رہائشی فہیم اکرم نے ایک ایسی ویب سائٹ چلا رکھی تھی جو پیکیج کے وزن، سائز یا منزل کی پروا کیے بغیر فلیٹ ریٹ پر امریکہ کے جعلی ڈاک ٹکٹ فروخت کرتی تھی۔ امریکی اٹارنی جیسن اے ریڈنگ کوئینونیس نے فردِ جرم میں بتایا کہ اس کارروائی میں 51 لاکھ سے زائد جعلی لیبلز شامل تھے جن کی وجہ سے 126 ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا، اور ایک امریکی وفاقی گرینڈ جوری نے ملزم پر امریکی پوسٹل سروس کو 10 ملین ڈالر سے زائد کا چونا لگانے کا الزام عائد کیا۔
پس منظر
این سی سی آئی اے لاہور زون کے مطابق اس تحقیقات کی نگرانی ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف عامر نے کی۔ تفتیش کاروں نے معلوم کیا کہ ملزم نے اگست 2023 سے ستمبر 2026 تک LabelsBank.com کے نام سے ویب سائٹ چلائی، جس کے ذریعے مبینہ طور پر 2 ڈالر فی ٹکٹ کے حساب سے 50 لاکھ سے زیادہ جعلی ٹکٹ فروخت کیے گئے۔
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق ان لین دین کے لیے 16 بینک اکاؤنٹس استعمال کیے گئے جن میں سے 7 ملزم کے، 5 اس کے بھائی کے، 2 بیوی کے، اور ایک ایک بہن اور ماسی کے نام پر تھے۔ 10 دن کے خصوصی لوکیٹر آپریشن کے بعد 8 خصوصی ٹیموں نے پنجاب، اسلام آباد اور سندھ میں 35 چھاپے مارے، 47 افراد سے پوچھ گچھ کی اور 122 کال ڈیٹا ریکارڈز، 50 آئی ایم ای آئی ٹریکنگ رپورٹس اور 120 کیمروں کی میڈیا ریکارڈنگ کا تجزیہ کیا۔
اہمیت کیوں رکھتی ہے
رپورٹ کردہ تفصیلات کے مطابق ملزم کے خلاف باضابطہ مقدمہ (نمبر 246/2026) درج کر لیا گیا ہے، جو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور غیر ملکی دائرہ اختیار سے جڑے بین الاقوامی سائبر جرائم کی تحقیقات کے لیے ملکی ایجنسیوں کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تعاون اور تکنیکی ٹریکنگ کو ظاہر کرتا ہے۔
آگے کیا ہوگا
جیو نیوز کے مطابق اس مقدمے کی مزید تفتیش فی الحال جاری ہے۔
