خطے میں کشیدگی کے بادل منڈلا رہے ہیں اور سفارت کار اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کیا آٹھ ملکی سکیورٹی معاہدہ خلیج میں امن قائم کر سکتا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جاری مخمصے کے دوران ایسے کسی معاہدے کی بات قبل از وقت لگ سکتی ہے، لیکن جنگ روکنے کے لیے معاہدے اس وقت سب سے زیادہ معنی رکھتے ہیں جب عدم اعتماد اپنے عروج پر ہو۔
برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی میں ایک لیکچر کے دوران عمان کے وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی نے آٹھوں خلیجی ساحلی ممالک پر مشتمل ایک غیر جارحانہ معاہدے کی ضرورت پر زور دیا۔ الجزیرہ کے مطابق اس تجویز کردہ گروپ میں خلیج تعاون کونسل کے 6 ارکان کے علاوہ عراق اور ایران بھی شامل ہیں، جنہیں البوسعیدی نے ایک جامع علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کے لیے بنیادی شرط قرار دیا۔
الجزیرہ نے بتایا کہ علاقائی تنازعات کو حل کرنا اس لیے مشکل ثابت ہوا ہے کیونکہ سکیورٹی کے انتظامات اب تک کمزور رہے ہیں اور طویل عرصے تک بیرونی طاقتوں پر انحصار کیا گیا ہے۔ البوسعیدی نے اعتراف کیا کہ ایسا معاہدہ طے کرنا آسان نہیں ہوگا، لیکن انہوں نے سفارتی راہ تلاش کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق عمانی تجویز کی جڑیں نومبر 1976ء کی ایک تاریخی مثال میں پیوست ہیں، جب خطے سے برطانیہ کے انخلا کے بعد تمام آٹھ خلیجی ساحلی ممالک کے وزرائے خارجہ اجتماعی سلامتی کے لیے مسقط میں جمع ہوئے تھے۔ وہ موقع واحد ایسا تھا جب تمام آٹھ ممالک ایک میز پر بیٹھے تھے۔
بعد کے واقعات جن میں ایرانی انقلاب، افغانستان میں سوویت مداخلت اور ایران عراق جنگ شامل ہیں، نے خطے کو ایسے دفاعی انتظامات کی طرف دھکیل دیا جو بعد میں خلیج کی تقسیم کا باعث بنے اور ایران کو اکثر خطرہ سمجھا گیا۔ تاہم، جیسا کہ الجزیرہ نے رپورٹ کیا، چونکہ ایران خلیج کا تقریباً نصف ساحل رکھتا ہے، اس لیے اس کے بغیر کوئی بھی سکیورٹی ڈھانچہ نامکمل رہتا ہے۔
علاقائی سلامتی کے اس خیال کو مئی 2019ء میں اس وقت تقویت ملی جب اس وقت کے ایرانی وزیر وزرائے خارجہ جواد ظریف نے بغداد کے دورے کے دوران ایسے ہی ایک معاہدے کی تجویز دی، جسے روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی سراہا۔ اس کے بعد ستمبر میں ایرانی صدر حسن روحانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں آبنائے ہرمز کے امن اقدام کا آغاز کیا، لیکن خلیجی ممالک کی طرف سے مسلح گروہوں کی حمایت کے باعث اس پر سرد مہری دکھائی گئی۔
حالیہ عرصے میں فنانشل ٹائمز نے مئی میں رپورٹ کیا تھا کہ سعودی عرب ایران کے ساتھ ایک غیر جارحانہ فریم ورک پر بات چیت کر رہا ہے، جس سے اس خیال پر ایک بار پھر توجہ مرکوز ہوئی ہے۔
اہمیت کیوں ہے؟
پاکستان کے عام قارئین کے لیے خلیجی خطے کی پیش رفت انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس کے ساتھ جغرافیائی قربت، گہرے معاشی تعلقات اور لاکھوں پاکستانی تارکین وطن کا رشتہ جڑا ہوا ہے۔ خلیج میں امن یا تنازع براہ راست علاقائی تجارت، توانائی کی فراہمی اور بیرون ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر سے وابستہ خاندانوں کی معاشی حالت پر اثر انداز ہوتا ہے۔

