انجیلا کورڈن کے لیے اپنے والد اور چچا کی تلاش کا طویل سفر دہائیوں پر محیط تکلیف دہ خاموشی اور اس خصوصی عدالت کی جانب سے ملنے والے چند نازک جوابات کے گرد گھومتا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، جب انجیلا کے چچا رینالڈو کورڈن ہیریرا اور ان کے والد گیلرمو کورڈن ہیریرا کولمبیا کی اندرونی مسلح جنگ کے دوران لاپتہ ہوئے تو وہ ایک نوعمر لڑکی تھیں۔ اپنے بھائی کی تلاش میں سرگرداں ان کے والد کو باغی جنگجوؤں کی ایک فون کال موصول ہوئی، جس کے بعد وہ بھی غائب ہو گئے اور یوں یہ خاندان اس چھ دہائیوں طویل جنگ کے متاثرین میں شامل ہو گیا جس میں 450,664 سے زائد جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق، اب ان مشکل سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو ایک غیر معمولی خطرے کا سامنا ہے۔ دائیں بازو کے صدر ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا کی حکومت نے سرکاری اداروں کے 2027 کے بجٹ میں نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے، جس میں امن کے لیے خصوصی عدالت (JEP) بھی شامل ہے۔ الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ اس عبوری عدالت کے لیے بجٹ میں کل کٹوتی تقریباً 181 ارب کولمبین پیسوز (تقریباً 57 ملین ڈالر) کے لگ بھگ ہے۔ اس کے علاوہ، الجزیرہ کے مطابق ایک سینیٹ کمیٹی نے ایک ایسے بل کو آگے بڑھایا ہے جس میں مارچ 2028 تک جے ای پی کو مکمل طور پر ختم کرنے اور اس کے امور عام عدالتوں کے نظام کے سپرد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
متاثرین اور ان کے خاندانوں کے ساتھ ساتھ سابق جنگجوؤں نے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یہ مالیاتی بندشیں عدالت کو اپنے فرائض کی انجام دہی سے روک دیں گی۔ انجیلا کورڈن نے الجزیرہ کو بتایا کہ کم وسائل کا مطلب براہ راست فیلڈ مشنز میں کمی اور انسانی ہمدردی کے عملے کی تعداد میں کٹوتی ہے، جس سے انسانی باقیات کو تلاش کرنے کی کوششیں مستقل طور پر رک سکتی ہیں اور خاندان جوابات سے محروم رہ سکتے ہیں۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق، امن کے لیے خصوصی عدالت (JEP) کا قیام 2016 میں کولمبیا کی حکومت اور اس وقت کے سب سے بڑے باغی گروہ فارک (FARC) کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے تحت عمل میں آیا تھا۔ اس عبوری عدالت کو خاص طور پر ملک کی دہائیوں پر محیط اندرونی مسلح جنگ کے دوران ہونے والے سنگین جرائم کی تحقیقات اور مقدمات چلانے کے لیے بنایا گیا تھا۔ انجیلا کورڈن جیسے خاندانوں کے لیے اس عدالت نے قید اور قتل کی جگہوں کے بارے میں وہ تفصیلات جاننے کا راستہ فراہم کیا جو روایتی فوجداری نظامِ انصاف کبھی فراہم نہیں کر سکا۔
یہ معاملہ کیوں اہم ہے
بین الاقوامی حالات پر نظر رکھنے والے قارئین کے لیے یہ صورتحال تنازعات کے بعد کے مشکل اور اکثر نازک ادوار اور امن قائم کرنے کی کوششوں کو ظاہر کرتی ہے۔ کولمبیا میں جاری بحث یہ بتاتی ہے کہ حکومتوں کو ریاستی اخراجات، اداروں کے بقا اور طویل عرصے سے جاری اندرونی تنازعات کے متاثرین کے مطالبات کے درمیان توازن قائم کرنے میں کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
آگے کیا ہوگا
الجزیرہ کے مطابق، مارچ 2028 تک جے ای پی کے مکمل خاتمے کی تجویز دینے والا سینیٹ کا بل تاحال قانون سازی کے عمل میں شامل ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے نافذ کی جانے والی 2027 کے بجٹ میں کٹوتیاں بھی اس کا حصہ ہیں۔

